نئی دہلی :(ایجنسی)
ہندوستان کے سابق سالیسٹر جنرل اور نامور وکیل ہریش سالوے نے اے بی پی آئیڈیاز آف انڈیا سمٹ 2022 میں شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے ’گورننس، آئین، عدلیہ کا کردار‘ کے موضوع پر بات کی۔ کیا ہندوستان میں انصاف میں تاخیرہوتی ہے ؟ ہریش سالوے نے اس سوال پر کہا کہ نظام عدل میں سنجیدگی سے اصلاح کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پٹیشن دائر کرتا ہے اور اس میں 10 سال لگتے ہیں تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ سسٹم ٹھیک کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام عدل کا کام اس وقت درست ہوتا ہے جب انصاف جلد سے جلد مل سکے۔
ہریش سالوے نے کہا کہ عرضی داخل کرنے کے بعد سال گزر جاتے ہیں۔ انصاف کی فراہمی کا نظام یہ ہے کہ درخواست دائر ہونے کے بعد کتنی جلدی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی جیسے دارالحکومت میں عبوری عرضی داخل کرنے کے بعد اس معاملے میں برسوں گزر جاتے ہیں۔ ہمیں مزید ججوں کی ضرورت ہے، یہ صرف تعداد کی بات نہیں ہے۔ ہریش سالوے نے کہا کہ اگر آپ PIL دائر کرتے ہیں تو عدالت کچھ SIT تشکیل دیتی ہے۔ پھر کئی ایجنسیاں کام کرتی ہیں۔ ایسے میں ایسے ماحولیاتی نظام پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کی فراہمی جلد ہو سکے۔
مرکز اور ریاست کے درمیان تنازع کا کیا ہوگا؟ اس پر ہریش سالوے نے کہا کہ ہر چیز میں عدالتی نظام کی ضرورت کیوں ہے؟ ان تمام معاملات کو گورننس کی سطح پر ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں فیصلہ سازی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بہت سے معاملات میں سال لگتے ہیں۔ اس سے عدلیہ کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اسے ایسے کیسز حل کرنے پڑیں گے، جو اس نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔ سب کچھ عدلیہ کا ہے کیونکہ ریاستیں مرکز کی بات نہیں سنتی ہیں۔ ہمیں یقینی طور پر ایسی مشینری بنانے کی ضرورت ہے جو ایسے تنازعات کو عدالت سے باہر حل کر سکے۔
یکساں سول کوڈ پر ہریش سالوے نے کہا کہ ملک کی معیشت ایک سنگین معاملہ ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے کہ ملک کو کیسے آگے لے جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ان تمام معاملات کے علاوہ یکساں سول کوڈ کوئی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ہمیں ججوں کی تقرری جیسے معاملات پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کے سفر کو 5 ٹریلین تک لے جانے کے لیے ہمیں بہتر معاملات کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔










