اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ڈھونڈھتی ہے آج دنیا ہم میںکردار حسینؓ

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مذہبیات
A A
0
ڈھونڈھتی ہے آج دنیا ہم میںکردار حسینؓ
191
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کلیم الحفیظ ۔نئی دہلی

مسلمانوں کی تاریخ میں کربلا کا واقعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اس کی اہمیت اور سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس واقعہ کو گزرے ہوئے آج چودہ صدیاں گزرچکی ہیں مگر اس کا ہر کردار زندہ اور ہر زخم تازہ محسوس ہوتاہے۔ایسا لگتا ہے جیسے یہ کل کا ہی واقعہ ہو۔اس کی ایک وجہ تو مسلمانوں کا ہر سال اس واقعہ کی یاد میں محفلیں منعقد کرکے اور منظر کشی کرکے اس کو زندہ رکھنا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ دنیا کے کسی نہ کسی خطے میں اس دن سے آج تک تسلسل کے ساتھ حسینی کردار یزیدی کردار سے بر سر پیکار ہے۔وطن عزیز بھارت میں تو ہر دن کربلا کی یاد تازہ کرادینے والے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔کہیں کوئی سادھو مہاتما حسین ؓ کے نانا کی شان میں گستاخانہ کلمات کہتا ہے،کہیں حسینؓ کے نام لیوا کی لنچنگ کردی جاتی ہے ،کہیں ملے کاٹے جائیں گے کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔آدم اور ابلیس کی جنگ ازل سے ابد تک جاری رہے گی ۔امام حسینؓ اور یزید کے یہ کردار ہمیشہ زندہ رہیں گے ،دنیا میں خیر و شر کے معرکے تا قیامت ہوتے رہیں گے۔اس لیے کہ :

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی

البتہ اس معرکہ ٔ خیر و شر میں چراغ مصطفوی رکھنے والوں کا امتحان ہے کہ وہ تیز و تندہوائوں ،ہولناک آندھیوں اور تباہ کن طوفانوں کے درمیان چراغ مصطفوی کو کس طرح روشن رکھتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں جہاں اہل ایمان نے اپنے اندر حسینی کردار کو زندہ و باقی رکھا ہے وہاں وہاں چراغ مصطفوی کی لَو بجھنے کے بجائے اور تیز ہوئی ہے۔فلسطین میں ستر سال سے حق و باطل کے درمیان جنگ جاری ہے مگر اہل حق کی شجاعت و استقامت کے سامنے باطل سرنگوں ہوتا جارہا ہے۔خطۂ افغانستان میںبھی اہل حق ستر سال سے سپر پاورز سے نبرد آزما ہیں اور تا حال فتح کا پرچم لہرارہے ہیں۔دنیا کی سپر پاور کو بوریہ نشینوں نے جس ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا ہے وہ حالیہ تاریخ کا روشن باب ہے۔

بھارتی میدان کربلا میں ایک طرف حسین ؓ کے نام لیوا ہیں اور دوسری طرف حسینی نام سے نفرت کرنے والے ہیں۔چونکہ دنیا دارالاسباب ہے ۔اس لیے اس جنگ میں فتح اسی گروہ کو ہوگی جو اپنی فکرکی مضبوطی کے ساتھ ساتھ ظاہری اسباب سے بھی آراستہ ہو۔اس پہلو سے اگر جائزہ لیا جائے تو بھارت میں باطل تحریکیں زیادہ مضبوط نظر آتی ہیں ۔وہ اپنے مشن کے تئیں جس طرح سنجیدہ ہیں،اس کے لیے جس انداز کا ایثار کررہی ہیں اور جس منصوبہ بندطریقے پر آگے بڑھ رہی ہیں ہمارے یہاں اس کا فقدان ہے۔33کروڑ دیوتائوں کے ماننے والے جس طرح متحد ہیں ہم ایک خدا کے ماننے والے اس سے زیادہ منتشر ہیں۔ان کے یہاں جس سطح کی سنجیدگی ہے ہمارے یہاں اس سے کہیں زیادہ غیر سنجیدگی ہے،منصوبہ بندی اور پلاننگ کے الفاظ تو ہماری لغت کا حصہ ہی نہیں۔ان حالات میں ہم کس طرح فتح کی امید رکھ سکتے ہیں۔

واقعہ کربلامیں حضرت حسین ؓ کے کردارکا اگر بغور مطالعہ کیاجائے تو آج کے تناظر میں امت مسلمہ کے لیے کئی اہم اسباق موجود ہیںجو آج کے حالات میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔پہلا سبق یہ ہے کہ امت کو مداہنت سے کام لینے اور رخصتوں کا حیلہ کرنے کے بجائے استقامت اور عزیمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔آزادی کے 75سال بعد آج جس ذلت کے مقام پر امت کھڑی ہے اس میں حکمت و مصلحت کی آڑ میں ہمارے بزدلانہ اقدامات کا اہم رول ہے۔ایک ایک کرکے مسلمانوں کے حقوق پر شب خون ماراجاتا رہا،ادارے ختم کیے جاتے رہے،مسلم اکثریتی علاقوں کونظر انداز کیا جاتا رہا اور ہم ہر بار ایک قدم پیچھے ہٹتے رہے ۔ہم نے کسی مقام پر بھی استقامت نہیں دکھائی،بلکہ حیلوں اور رخصتوں کی آڑ میں بزدلی کو حکمت و مصلحت اور منشائے خداوندی کا خوبصورت نام دے کر اطمینان کی سانس لی۔جب کہ حضرت امام حسین ؓ نے اپنے موقف میں ذرا لچک پیدا نہیں کی ،نہ یہ دیکھا کہ میری قوت اور تعداد کیا ہے اور نہ کسی رخصت سے فائدہ اٹھایا بلکہ باطل کے سامنے سینہ سپرہو گئے جب کہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس معرکے میں ان کی اور ان کے اہل خانہ کی جان چلی جائے گی ۔امت مسلمہ کا ہر فرد اگر یہ کردار اپنے اندر پیدا کرلے ،یا حسینؓ کا نعرہ لگانے والے اور ان کے غم میں سینہ کوبی کرکے لہولہان کرنے والے ،دہکتے انگاروں پر چلنے والے اگر عملی زندگی میں یہی جواں مردی دکھانے پر اتر آئیں تو کوئی سینا اور واہنی ان کے مقابلے پر نہیں ٹھہر سکتی۔

واقعہ کربلا کا دوسرا اہم سبق اپنی آزادی کی حفاظت کا ہے۔یزید نے جس آمریت کا اعلان کیا تھا وہ انسانوں کو انسان کا غلام بنانے والی تھی وہاں ضمیر کی آزادی کو غلامی کی بیڑیوں میں قید کیا جارہا تھا،ٹھیک اسی طرح آج بھارت میں حکمراںہمارے دسترخوان اور بیڈ روم کے لیے حکم نامہ جاری کرکے ہماری آزادی کو غلامی کی بیڑیاں پہنا رہے ہیں ۔فاشزم کا یہ آمرانہ رویہ بہت جلد یہاں کے عوام کی اکثریت کو اپنی غلامی میں لے لے گا اور ملک پر چند لوگوں کی حکمرانی کا دور شروع ہوجائے گا۔اس موقع پر بھی حسین ؓ کی یاد میں مجالس عزا کا اہتمام کرنے والوں کو اپنے اندر حسینی کردار پیدا کرنا چاہئے اس لیے کہ امام حسین ؓ کا قول ہے۔’’عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے‘‘۔یزید کی طرف سے بیعت کے مطالبے پر آپ کے سنہرے الفاظ تاریخ میں درج ہیں۔’’ خدا کی قسم، اپنا ہاتھ ذلت کے ہاتھوں میں نہیں دوں گا اور غلاموں کی طرح تمہارے آگے نہیں جھکوں گا۔‘‘امام عالی مقام نے جو کہا اس کو کرکے دکھا یااور امت کو یہ راستا دکھایا کہ وہ اپنی آزادی کو ہر قیمت پر باقی رکھیں پھر ان کے نام لیوا کس طرح اپنے لیے ذلت اور غلامی کو پسند کررہے ہیں ۔ان کی جانب سے کوئی پر عزم آواز کیوں نہیں سنائی دیتی؟

کربلا کا حادثہ کوئی رسمی چیز نہیں ہے کہ ہر سال اس کو یاد کرنے کی محض وہ رسمیں ادا کی جائیں جو آبائو اجدا دسے چلی آرہی ہیں ۔تاریخ محض پڑھنے اور پڑھ کر سردھننے کا نام نہیں ہے ۔امام حسین ؓو آل حسین کی شجاعت صرف بیان کرنے کی حد تک نہیں ہے۔امام حسین ؓ کے مراثی محض کوئی رزمیہ شاعری کا حصہ نہیں کہ سن کر لطف اندوز ہواجائے۔ آل حسین ؓ کی شہادت کا غم تازہ رکھنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم خاص تاریخ کو بین کرکے اورآنسو گرا کر خاموش ہوجائیں بلکہ یہ واقعات اور یہ کردار ہمارے دل میں حشر پیدا کرنے کے لے ہیں۔ہمارے حوصلوں کو جوش دینے اور ہمارے لہو کو گرم رکھنے کے لیے ہیں۔اگرماہ محرم کا یہ اندوہناک واقعہ کربلا بھی ہمارے اندردبی چنگاری کو شعلہ نہیں بناتا تو اپنی غلامانہ حالت میںکسی تبدیلی کا انتظار مت کیجیے اس لیے کہ تبدیلی یاحسینؓ کے نعروں سے نہیں حسینی کردار پیدا کرنے سے آتی ہے ،دنیا آپ کے اندر اسی کردار کی متلاشی ہے ۔

نام لینا ہی نہیں کافی عزادار حسینؓ
ڈھونڈتی ہے آج دنیا ہم میں کردار حسینؓ

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

مذہبیات

جب مسجد اور تعلیمی ادارے کے درمیان جھگڑے کی تاریکی چھٹی

22 اگست
مذہبیات

ڈپریشن :قرآنی علاج

09 جولائی
مذہبیات

_یہودی قیادت سے معزول__

20 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN