وکیل مونیا بوعلی نے جمعرات کو بتایا ہے کہ تونس کے ایک تفتیشی جج نے حزب اختلاف کی پارٹی ’’النہضہ موومنٹ ‘‘ کے رہنما راشد الغنوشی کو اندرونی ریاستی سلامتی کے خلاف سازش کرنے کے شبہ میں قید کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ بدھ کی شام تونس میں ابتدائی تفتیشی عدالت کے جج نے النہضہ موومنٹ کے رہنما اور ان کی پارٹی کے متعدد رہنماؤں سے ریاست کی داخلی سلامتی کے خلاف سازش کرنے اور ریاستی ادارے پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں پوچھ گچھ کی۔
واضح رہے پیر کے روز پولیس نے الغنوشی کو تونس میں ان کے گھر کے اندر سے، پبلک پراسیکیوشن کی طرف سے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کرتے ہوئے، حراست میں لے لیا تھا کیونکہ ان کی ایک ویڈیو وائرل تھی جس میں وہ نہضہ پارٹی کو پیچھے دھکیلنے کی صورت میں ملک میں خانہ جنگی کی دھمکی دیتے نظر آرہے تھے۔ اس ویڈیو کلپ میں الغنوشی نے صدر قیس سعید کے حامیوں کو دہشت گرد اور نابود کرنے والے کے طور پر بیان کیا تھا۔ الغنوشی نے یہ بیان اپوزیشن ’’ سالویشن فرنٹ‘‘ کے اجلاس کے دوران دیا تھا۔ اس کے بعد النھضہ موومنٹ کے 3 رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔
العنوشی کے علاوہ تحقیقات میں 12 افراد کو شامل کیا جائے گا جن میں سے زیادہ تر النہضہ موومنٹ کے رہنما ہیں۔ ان افراد کی سربراہی الغنوشی کے داماد اور سابق وزیر خارجہ رفیق عبدالسلام کر رہے ہیں۔ یہ افراد ملک کی اندرونی سلامتی پر حملہ کرنے کی سازش کر رہے تھے۔ اس حملے کا مقصد ریاست کی ہیئت کو تبدیل کرنا اور تعزیرات کے ضابطہ کے باب 68 اور 72 کے مطابق آبادی کو ایک دوسرے پر حملہ کرنے پر مجبور کرنا تھا۔







