نئی دہلی:(ایجنسی)
نوجوت سنگھ سدھو نے پنجاب پردیش کانگریس صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو نے تقریباً دو ماہ پہلے ہی 23 جولائی کو پنجاب کانگریس کے صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ نوجوت سنگھ سدھو نے سال 2019 میں اپنے مقامی بلدیاتی محکمہ سے ہٹائے جانے کے بعد ریاستی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ سال 2017 اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں آئے تھے۔ 18 ستمبر کو امریندر سنگھ کے وزیر اعلیٰ عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد کانگریس قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کئے گئے چرنجیت سنگھ چننی کو 20 ستمبر کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنائے جانے کے درمیان نوجوت سنگھ سدھو کا یہ قدم بے حد حیران کرنے والا بتایا جارہا ہے۔
نوجوت سنگھ سدھو نے کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی کو بھیجے گئے اپنے استعفیٰ میں لکھا، ’ایک انسان کے کردار کا زوال سمجھوتے سے شروع ہوتا ہے۔ میں پنجاب کے مستقبل اور بھلائی کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ ایسے میں، میں پنجاب کانگریس صدر کے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں۔ میں کانگریس کے لئے کام کرتا رہوں گا‘۔
دریں اثناء نوجوت سنگھ سدھو کے استعفیٰ پر کیپٹن امریندر سنگھ نے طنز کیا اورٹویٹ کیا: ’’ میں نے پہلے ہی کہا تھا یہ ٹکنے والا آدمی نہیں ہے اور سرحدی ریاست پنجاب کے لیے ٹھیک نہیں ہے ‘‘ پنجاب میں کچھ ہی مہینے بعد اسمبلی انتخابات بھی ہونے والے ہیں ۔
سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ دہلی پہنچ گئے ہیں۔ ان کے اس سفر کو لے کر کئی طرح کی بحثیں ہیں۔ قیاس لگایا جا رہا ہے کہ وہ کوئی بڑا فیصلہ لیں گے ۔ یہ بھی کہا جا رہاہے کہ وہ وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی ملاقات کرسکتے ہیں ، حالانکہ انہوںنے اپنے دورے کو ذاتی سفر بتایااور کہاکہ سیاست سے لینا دینا نہیں ہے ۔
ادھر دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال دو دن کے دورے پر پنجاب میں ہیں۔ وہ وہاں لدھیانہ میں صنعت کاروں سے ملاقات کریں گے اور الیکشن کی تیاروں کو لے کر میٹنگ بھی کریں گے ۔ بتایا جا رہاہےکہ اترا کھنڈ اور گوا کی طرز پر وہ روزگار گارنٹی اسکیم کااعلان بھی کرسکتے ہیں ۔










