نئ دہل: ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بلیو ٹک (ویریفائیڈ اکاؤنٹ) حاصل کرنے کے لیے صارفین کو ماہانہ آٹھ ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔چوالیس ارب ڈالر کے عوض ٹوئٹر خریدنے اور کمپنی میں اعلیٰ عہدوں پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کے بعد ایلون مسک نے کہا کہ تصدیق شدہ صارف کا عندیہ دینے والے بلیو ٹک کے عوض پیسے وصول کرنے سے ’جعلی اور پریشان کن مواد کو شکست دی جاسکتی ہے۔
‘ٹوئٹر پر بلیو ٹک کسی صارف کے نام کے ساتھ لگا ہوتا ہے اور یہ عموماً معروف شخصیات یا مصدقہ اکاؤنٹس کو مفت میں دیا جاتا ہے۔ اور اس کے حصول کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مسک کے اس فیصلے سے مصدقہ ذرائع کی جانچ مزید مشکل ہوسکتی ہے۔
بلیو ٹک‘ کیا ہے؟ٹوئٹر پر آپ نے اکثر ملکی سربراہان، سیاستدانوں، شوبز شخصیات، مصنفوں، صحافیوں اور دیگر شعبوں میں اعلیٰ سطح پر کام کرنے والے افراد کے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں ان کے نام کے آگے ایک ’بلیو ٹک‘ کا نشان دیکھا ہو گا۔اس ’بلیو ٹک‘ کے حامل اکاؤنٹس کو ٹوئٹر کی جانب سے تصدیق شدہ اکاؤنٹس قرار دیا جاتا ہے یعنی ان افراد نے اپنے پیشے، رتبے سے متعلق جو دیگر تفصیلات فراہم کی ہیں وہ درست ہیں۔ٹوئٹر پر بلیو ٹک کے حامل اکاؤنٹس کو معتبر اور درست سمھا جاتا ہے۔








