رام پور: اترپردیش کے سابق وزیر اور سماجوادی پارٹی کے قدآورلیڈر محمد اعظم خاں کے اور ان کی قائم کردہ یونیورسٹی کے خلاف ایکشن جاری ہے تازہ ترین کارروائی جوہریونیورسٹی کے خلاف کی گئی خبر کے مطابق انتظامیہ نےہفتہ کو محمد علی جوہر یونیورسٹی میں اینیمی پراپرٹی قرار دی گئی زمین پر بنی دو عمارتوں کو سیل کردیا۔ رپورٹ کے مطابق خالی کرانے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد اہلکار پولیس فورس کے ساتھ احاطے میں پہنچے اور یہ کارروائی انجام دی۔ الزام ہے کہ یہ عمارت جوہر یونیورسٹی میں نگران (کسٹوڈین) کی زمین پر ناجائز قبضہ کر کے تعمیر کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ حال ہی میں ہائی کورٹ کے حکم پر جوہر یونیورسٹی میں ’کسٹوڈین آف اینمی پراپرٹی ‘ یعنی دشمن جائیداد کے نگراں نے پیمائش کرائی تھی۔ محکمہ ریونیو نے جوہر یونیورسٹی کیمپس میں واقع 13.8 ہیکٹر دشمن جائیداد کی پیمائش کر کے اسے کسٹوڈین کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اسی زمین پر جوہر یونیورسٹی کا اسپورٹس کمپلیکس اور سیکورٹی چیف کی رہائش گاہ بنائی گئی تھی، جسے ایس ڈی ایم صدر مونیکا سنگھ نے 25 جولائی کو خالی کرنےکے لئے سات دن کا وقت دیا تھا، جس کے بعد نگران ہفتہ کو رام پور پہنچا اور مقامی انتظامیہ سے مدد مانگی۔
ریونیو ٹیم نے نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ کر دونوں عمارتوں کو سیل کر دیا اور وہاں پر جائیداد کے کسٹوڈین کا نوٹس چسپاں کر دیا۔ محکمہ اینیمی پراپرٹی کی جانب سے انتظامیہ کو جوہر یونیورسٹی میں واقع اراضی کی حد بندی کرنے اور اس پر قبضہ کرنے کے احکامات بھی جاری کر دئے گئے
اس کے بعد محکمہ ریونیو کی ٹیم نے چار دن تک جوہر یونیورسٹی میں زمین کی پیمائش کی اور اس پر قبضہ کرنے کی کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران جوہر یونیورسٹی کی دو عمارتیں بھی دشمن جائیداد کی زد میں آ گئیں۔
ایس ڈی ایم صدر مونیکا سنگھ نے بتایا کہ جوہر یونیورسٹی میں واقع دشمن جائیداد پر قبضہ کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ احکامات کے بعد اراضی تو قبضے میں لے لی گئی ہے ۔ جو دو عمارتیں دائرہ میں آئیں، انہیں خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا تھا، اس کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ ہفتہ کو ان دونوں عمارتوں کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد انہیں سیل کرنے کی کارروائی کی گئی۔










