نئی دہلی:
دہلی پولیس نے جواہر لال نہرویونیورسٹی کے سابق طالبعلم عمر خالد کی ضمانت عرضی کی مخالفت کی ہے، جنہیں شمال-مشرقی دہلی میں فساد کی سازش کے ایک معاملے میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
دہلی پولیس نے منگل کو یہاں کی ایک عدالت کو بتایا کہ شمال-مشرقی دہلی فسادات کے سلسلے میں جے این یو کے سابق طالبعلم عمر خالد کی ان کے خلاف دائر یو اے پی اے معاملے میں دی گئی ضمانت عرضی میں کوئی دم نہیں ہے۔
پولیس نے کہا کہ استغاثہ معاملے میں دائر چارج شیٹ کے حوالے سے عدالت میں ملزم کےخلاف پہلی نظرکامعاملہ دکھائےگا۔دہلی پولیس کی اس دلیل کے بعدایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے عمر خالد کی ضمانت عرضی پر ان کے وکیل تردیپ پیس کی گزارش پر شنوائی سات اگست تک کے لیےملتوی کر دی۔
قابل ذکر ہے کہ ملزم کو فساد سےمتعلق ایک دوسرے معاملے میں ضمانت مل چکی ہے۔ عدالت نے عمر خالد کو شمال-مشرقی دہلی کے کھجوری خاص علاقے میں گزشتہ سال فروری میں ہوئے فسادات سے جڑے ایک معاملے ضمانت دیتے ہوئے کہا تھا کہ واقعہ کے دن وہ جائےواردات پر موجود نہیں تھے۔ یہاں تک کہ ان کے موبائل فون کی’کال ڈٹیل ریکارڈ‘(سی ڈی آر)واقعہ کے دن جائےواردات پر نہیں پائی گئی۔
یو اے پی اے کےتحت گزشتہ سال ایک اکتوبر کو عمر خالد کو گرفتار کیا تھا۔ یو اے پی اے کے ساتھ ہی اس معاملے میں ان کے خلاف فساد کرنے اورمجرمانہ طو رپر سازش کرنے کے بھی الزام لگائے گئے ہیں۔پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شہریت قانون (سی اےاے)اور این آرسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شامل عمر خالد اوردیگر نے دہلی میں فسادات کی سازش کی تاکہ دنیا میں مودی سرکار کی شبیہ خراب کی جا سکے۔
دہلی پولیس کے مطابق، خالد نے مبینہ طور پر دو الگ الگ مقامات پر اشتعال انگیز تقریرکی تھی اور لوگوں سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کےہندوستان دورے کے دوران سڑکوں پر آنے اور سڑکوں کو بندکرنے کی اپیل کی تھی تاکہ بین الاقوامی سطح پر لوگوں کو پتہ چلے کہ ملک میں اقلیتوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
معلوم ہو کہ 24 فروری، 2020 کو شمال مشرقی دہلی میں شہریت قانون کےحامیوں اور مظاہرین کے بیچ فرقہ وارانہ تشدد ہوئے تھے۔اس تشدد میں تقریباً53 لوگ مارے گئے تھے اور لگ بھگ 200 لوگ زخمی ہو گئے تھے۔بتادیں کہ گزشتہ 15جون کو دہلی ہائی کورٹ نے یو اے پی اے کے تحت گرفتار نتاشا نروال، دیوانگنا کلیتا اور اقبال آصف تنہا کو ضمانت دے دی تھی۔











