نئ دہلی:جواہر لال نہرویونیورسٹی کے سابق طالب علم عمر خالد کو اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے سات دن کے لیے تہاڑ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ عمر خالد کو دہلی کی ایک عدالت نے اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے عبوری ضمانت دی تھی۔ جیل حکام کے مطابق عمر خالد کو آج صبح سات بجے تہاڑ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔
جن ست کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے عمر خالد کو بہن کی شادی میں شرکت کے لیے رہائی دیتے ہوئے کئی شرائط عائد کیں۔ عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ رہائی پر عمر خالد کسی گواہ سے رابطہ نہیں کریں گے اور نہ ہی شواہد سے چھیڑ چھاڑ کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ وہ اپنا موبائل نمبر تفتیشی افسر کو دیں گے۔
عمر خالد کا موبائل عبوری ضمانت کی مدت تک آن رہنا چاہیے۔ عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ عمر خالد کو عبوری ضمانت کی مدت میں روزانہ تفتیشی افسر کو ویڈیو کال کرنا ہوگی۔ عمر خالد اس دوران سوشل میڈیا تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ عدالت نے ان تمام شرائط کو پولیس کے اس خدشے کے پیش نظر رکھا ہے جس میں پولیس نے عبوری ضمانت کی مدت کے دوران سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے غلط معلومات پھیلانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔








