نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ یکساں سول کوڈ کے معاملے پر مسلسل اپنی رائے دے رہا ہے۔ اسی سلسلے میں بورڈ کے 11 رکنی وفد نے لا کمیشن کے چیئرمین اور ممبران سے ملاقات کی۔ اس وفد میں بورڈ کےذمہ داران و ممبران تھے -ان میں بورڈکےصدر مولانا خالدسیف اللہ رحمانی ،بورڈ کے نائب صدرسید سعادت اللہ حسینی، مولانا محمد مفتی مکرم، مولانا علی اصغر امام مہدی سلفی ،بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی ،پروفیسر ڈاکٹر سید علی نقوی،سینئیر ایڈوکیٹ یوسف حاتم مچھالا،ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد،پروفیسر مونسہ بشری عابدی،ایڈوکیٹ نبیلہ جمیل اور ڈاکٹر قاسم رسول الیاس ترجمان بورڈ شامل تھے۔وفدنے لاء کمیشن کے سامنے مضبوطی کے ساتھ اپنا مؤقف رکھا ،بورڈ نے واضح طور پر کہا کہ مسلم پرسنل لاء قرآن و سنت مبنی قانون ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی ،
بورڈ کے ممبران نے لا کمیشن کو بتایا کہ مسلمان شریعت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ لاء کمیشن نے بھی وفد سے کئی سوالات کئے جیسے کہ بورڈ متعہ (ایک مخصوص مدت کے لیے شادی) حلالہ کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ صنفی مساوات و انصاف پر بورڈ کا کیا موقف ہے؟ جائیداد میں خواتین کے حصے کے بارے میں بورڈ کا کیا خیال ہے؟ اسلام میں شادی کی عمر کیا ہے؟ بچے کے گود لینے کی کیا گنجائش ہے وغیرہ -لاء کمیشن کو ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے بورڈ کے ارکان نے کہا کہ یو سی سی کے حوالے سے جو چیزیں ہو رہی ہیں وہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔اور ایسا لگتا ہے کہ اسکا ٹارگٹ صرف مسلمان ہیں-
بورڈ نے کمیشن کے ہر اشکال کا مدلل جواب دیا ،بورڈ نے بتایا کہ اسلام میں شادی کی عمر کسی سال کے لحاظ سے متعین نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب لڑکا اور لڑکی شادی کے لیے ہر طرح سے تیار ہوں تو پھر شادی ہو سکتی ہے۔ ویسے لڑکیوں کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی شادی ہوتی ہے ،شریعہ میں معیار بلوغت ہے ۔متعہ کے حوالے سے مولانا نقوی نے نے کہاکہ ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہوتا، اور ایران میں بھی ختم ہوگیا ہے بورڈ نے سوال اٹھایا کہ ہمارے ملک میں تو لیو ان ریلیشن کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے اور اس کی کوئی مدت بھی متعین نہیں ہےجبکہ تعدد ازواج پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ -اسی طرح حلالہ کے بارے میں جو کہا جاتا ہے وہ غلط ہے۔ بورڈ نے خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے کے حوالے سے بھی اپنے نکات رکھے۔ ان کو بتایاگیا کہ اسلام صنفی مساوات نہیں انصاف پر یقین رکھتا ہے -بورڈ کے ترجمان اور سینئر ممبر قاسم رسول الیاس نے کہا کہ ہم نے لاء کمیشن کو بتایا ہے کہ یہ سب بی جے پی اور آر ایس ایس کے اکسانے پر 2024 کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ یو سی سی کی مخالفت جاری رکھے گا۔
کمیشن کے چیئرمین اوستھی نے کہا کہ ہم شریعہ قانون کو متاثر نہیں کرنا چاہیں گے البتہ جو غلط چیزیں در آئی ہیں ان کو ایڈریس کریں گے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی-









