نئ دہلی:گجرات کے بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس کے 11 مجرموں کی رہائی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی منگل کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ دریں اثنا، مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے بلقیس بانو کیس کے قصورواروں کی رہائی کا دفاع کیا ہے۔ جوشی نے دلیل دی کہ اس معاملے میں کچھ غلط نہیں ہوا۔
ملزمان کو قانون کے مطابق رہا کیا گیا۔دریں اثنا، سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ وہ 29 نومبر کو 2002 کے بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس کے 11 مجرموں کو معاف کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کرے گی۔
جسٹس اجے رستوگی اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے ہدایت دی کہ اس معاملے پر گجرات حکومت کی طرف سے داخل کردہ جواب تمام فریقوں کو دستیاب کرایا جائے۔ درخواست گزاروں کو گجرات حکومت کی طرف سے داخل کردہ حلف نامہ پر اپنا جواب داخل کرنے کا وقت دیا گیا ہے۔مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے NDTV سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا، "مجھے اس میں کچھ غلط نظر نہیں آتا، کیونکہ یہ قانون کا عمل ہے۔” وزیر نے کہا کہ ایسے مجرموں کی رہائی کی گنجائش ہے جنہوں نے "کافی وقت” جیل میں گزارا ہے۔ یہ قانون کے مطابق کیا جاتا ہے۔
گجرات حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ان لوگوں کو رہا کیا گیا کیونکہ وہ 14 سال سے جیل میں تھے۔ اس کا رویہ ’’اچھا‘‘ پایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی مرکز نے اسے منظوری دے دی تھی۔








