لکھنؤ :(ایجنسی)
اس بار اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی میں قدرے اضافہ ہوا ہے۔ 10 مسلم امیدواروں نے گزشتہ انتخابات سے زیادہ کامیابی حاصل کی۔ جیتنے والے مسلم امیدواروں کی کل تعداد 34 ہے۔ اس طرح مسلم ایم ایل اے اسمبلی میں کل تعداد کے مقابلہ میں 8.43 فیصد ہوں گے۔
تمام جیتنے والے مسلم امیدواروں کو ایس پی اتحاد نے میدان میں اتارا تھا۔ رام پور سے محمد اعظم خاں اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم سوار سے الیکشن جیت گئے۔ مؤ سے باہوبلی مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری بھی پہلے نمبر پر رہے۔ سابق وزیر کمال اختر بھی کانٹھ سے الیکشن جیت کر ایم ایل اے بن چکے ہیں۔ تاہم اب تک کے انتخابات میں سب سے زیادہ 68 مسلم ایم ایل اے سال 2012 میں منتخب ہوئے تھے۔
اس بارکہاں سے کون جیتا
امروہہ-محبوب علی، بہیڑی-عطا الرحمان، بیہٹ-عمر علی خان، بھدوہی-زاہد، بھوجی پورہ-شہزیل اسلام، بلاری-محمد فہیم، چمروہ-نصیر احمدخاں، گوپالپور-نفیس احمد، اسولی-محمد طاہر خاں، کیرانہ-ناہید حسن، کانپور کینٹ-محمد حسن، کانٹھ کمال اختر، کٹھور-شاہد منظور، کندرکی-ضیاء الرحمان، لکھنؤ ویسٹ-ارمان خاں، میٹرا-ماریہ، مؤ-عباس انصاری، میرٹھ-رفیق انصاری، محمود آباد-صہیب عرف مانو انصاری، مراد آباد دیہی- محمد ناصر، نجیب آباد- تسلیم احمد، نظام آباد- عالم بدی، پٹیالی- نادرا سلطان، رام نگر- فرید محمد قدوائی، رام پور محمد اعظم خاں، سنبھل-اقبال محمود، سکندر پور-ضیاء الدین رضوی، شیش مئو-حاجی عرفان سولنکی، سوال خاص-غلام محمد، سوار-محمدعبداللہ اعظم، ٹھاکردوارہ-نواب جان، تھانہ بھون-اشرف علی، ڈومریا گنج-سیدہ خاتون، سہارنپور-آشو ملک
کب کتنے قانون ساز؟
سال مسلم ایم ایل اے
1952 44
1957 37
1962 29
1967 24
1969 34
1974 40
1977 48
1980 49
1985 50
1989 41
1991 23
1993 31
1996 39
2002 44
2007 56
2012 68
2017 24
2022 34










