مظفر نگر :(ایجنسی)
بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت کا کہنا ہے کہ الیکشن ختم ہوچکا ہے، لیکن اب بی جے پی ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی کرکے اپنے امیدوار کو جتوانے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت بے ایمانی کے ساتھ تمام انتخابی ریاستوں کے ہر ضلع میں کم از کم ایک سیٹ جیتنے کی تیاری کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے لئے تمام کسانوں کو گنتی مراکز کی حفاظت کرنی ہوگی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ گاؤں والوں نے انھیں صاف کہہ دیا تھا کہ بی جے پی ایسا کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظر رکھنے کے لیے کسانوں کو 9 اور 10 تاریخ کو تمام کام چھوڑ کر گنتی کے مراکز پر چپکے رہنا ہوگا۔ وہ دو دن تک اپنے ٹریکٹر سے لحاف، گدے اور راشن کا پانی لے کر وہاں پہنچ جائیں اور ہر چیز پر نظر رکھیں۔
یہ الزام لگایا گیا ہے کہ حکمراں جماعت اترپردیش میں خاص طور پر 10 مارچ کو ووٹوں کی گنتی کے دوران ’غیر منصفانہ‘ طریقے استعمال کرکے ووٹوں کی گنتی کو متاثر کرسکتی ہے۔
بی کے یو لیڈر نے مظفر نگر نوین منڈی علاقے کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی 10 مارچ کو ووٹوں کی گنتی کے دوران انتخابات جیتنے کے لیے غیر منصفانہ طریقے استعمال کر سکتی ہے۔ نوین منڈی وہ علاقہ ہے جہاں پولنگ کے بعد ای وی ایم رکھی جا رہی ہیں۔
اس دوران ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایڈیشنل الیکشن آفیسر نریندر بہادر سنگھ نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی سخت سیکورٹی اور الیکشن کمیشن کی ہدایات کے تحت منصفانہ اور پرامن طریقے سے کی جائے گی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اتر پردیش میں پہلے مرحلے میں 10 فروری کو چھ اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی تھی جن میں مظفر نگر، بڈھانہ، پرقاضی، کھتولی، مراںپور اور چرتھاول شامل ہیں۔
راکیش ٹکیت نے کہا کہ ملک کو آر ایس ایس نامی تنظیم کے تربیت یافتہ لوگ چلا رہے ہیں۔ وہ اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ملک کو بیچنا چاہتی ہے۔ اس کے لیے تمام تیاریاں کر لی ہیں۔ اب کسانوں کو ایک اور تحریک کرنی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گاؤں گاؤں لوگوں کو آگاہ کر رہے ہیں اور 2023 میں ایک زبردست تحریک چلائیں گے۔










