میرٹھ :(ایجنسی)
مذہبی پروگراموں کے دوران ہنگامہ آرائی کے بعد، اتر پردیش پولیس چوکس ہے اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے احکامات پر عمل کرنے میں مصروف ہے۔ سی ایم یوگی کے حکم کے سامنے پولیس نہ تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بات سن رہی ہے اور نہ ہی انہیں قوانین توڑنے کی اجازت دے رہی ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ اتر پردیش کے میرٹھ میں سامنے آیا ہے۔
دراصل، میرٹھ میں بی جے پی کے ایک مقامی لیڈر اور تھانہ انچارج کا ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں بی جے پی لیڈر تھانہ انچارج کو ماتاکاجاگرن کرنے کیبات کہہ رہے ہیں، لیکن تھانہ انچارج کہہ رہے ہیں کہ وہ جاگرن نہیں ہونے دیں گے ،کیونکہ رمضان چل رہا ہے اور یہ مسلم علاقہ ہے اس لئے جاگرن رمضان کے بعد کروائے ۔
آج تک پورٹل کی خبر کے مطابق معاملہ میرٹھ کے سول لائن تھانے کے ہاشم پورہ کا ہے، جہاں ایک جاگرن کیا جانا تھا۔ اس سلسلے میں بی جے پی کے مقامی لیڈر دیپک شرما نے تھانہ انچارج سول لائن سے فون پر بات کی۔ تھانہ انچارج موقع پر پہنچ گئے اور وہاں بھی بی جے پی لیڈر نے انہیں جاگرن کرنے کی بات کہی، جس پر تھانہ انچارج نے کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر بغیر اجازت پروگرام منعقد نہیں ہونے دیں گے۔
اس پر بی جے پی لیڈر دیپک شرما نے کہا کہ جاگرن تو ہو گی، اگر آپ تمہارے بس کی ہو تو جاگرن روک کر دکھا دینا۔ جاگرن تو ہو کر رہے گا۔ بی جے پی لاڈر اور تھانہ انچارج کے درمیان کافی بحث ہوتی رہی ، تھانہ انچارج نے کہا کہ آئین سے ملک چل رہا ہے اگر میں روڈ پر وہ قطعی جاگرن نہیں ہونے دیں گے ۔
اس پر بی جے پی لیڈر دیپک شرما نے کہا کہ جاگرن ہوگا اور اگر آپ چاہتے ہیں تو بلڈوزر لےکر آجانا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے تھانہ انچارج کہہ رہے ہیں کہ وہ بغیر اجازت کوئی پروگرام نہیں ہونے دیں گے۔ تب بی جے پی لیڈر دیپک شرما نے کہا کہ انہیں اجازت کی ضرورت نہیں ہے، وہ 2 تاریخ کو یہاں جاگرن کریں گے۔
اس معاملے میں اسٹیشن انچارج نے کہا کہ آس پاس مسلم علاقہ ہے، پولیس کی اجازت کے بغیر کوئی جاگرن منعقد نہیں کیا جائے گا۔ میرٹھ کے ایس پی سٹی ونیت بھٹناگر سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ان کے نوٹس میں آیا ہے اور قوانین کے خلاف کسی بھی کام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔










