تجزیہ:پیوش رائے
لوک سبھا انتخابات 2024 کے پہلے مرحلے میں اتر پردیش کی آٹھ لوک سبھا سیٹوں پر ہوئے انتخابات میں 60.25 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں یوپی کی 8 سیٹوں پر 63.69 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی، وہیں سال 2014 میں 65.74 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔ ماہرین کے مطابق 2009 کے مقابلے 2014 میں ان نشستوں پر ووٹنگ میں نمایاں اضافہ ہوا جو تبدیلی کی علامت لے کر آیا۔ قیاس آرائیوں کا ایک دور شروع ہو گیا ہے کہ آیا 2024 میں ان سیٹوں پر ووٹنگ میں زبردست کمی کسی تبدیلی کی علامت ہے
ووٹر ٹرن آؤٹ 2019 کے مقابلے میں کم ہوا۔
مغربی یوپی کے "جاٹ لینڈ” میں ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ 65.95% ٹرن آؤٹ سہارنپور میں ہوا۔ اس سیٹ پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار راگھو لکھن پال کا سیدھا مقابلہ ہندوستانی اتحاد کے امیدوار عمران مسعود سے ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں سہارنپور کا ووٹنگ فیصد 70.75 فیصد تھا، جو اس بار تقریباً 5 فیصد کم ہوا ہے۔
ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں اگر دوسری اہم سیٹ کیرانہ کی بات کریں تو یہاں 61.17 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات یعنی 2019 کی بات کریں تو 67.44 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی جو اس سال کے ووٹنگ فیصد سے 6 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح کی تصویر رام پور میں بھی نظر آ رہی ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں یہاں 63.17 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی لیکن 2024 میں ووٹنگ کا فیصد گھٹ کر 54.77 فیصد رہ گیا۔ انتخابی جوش میں کمی مرادآباد میں بھی دیکھی گئی، جہاں 2019 میں یہ 65.42% تھی۔ اس بار یہ گھٹ کر 60.60 فیصد پر آگیا۔
کم و بیش ووٹنگ سے مختلف سیاسی معنی اخذ کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے ایک حصے کا ماننا ہے کہ زیادہ ووٹنگ کا مطلب یہ ہے کہ حکومت مخالف غالب ہے اور عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ جیسا کہ 2014 میں ہوا تھا۔ ایسے میں یوپی کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ فیصد میں کمی بی جے پی کے حق میں ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ووٹنگ فیصد میں بہت زیادہ کمی حکمران جماعت کے لیے مسائل بھی پیدا کر سکتی ہے۔
اگر ہم زمینی صورتحال کی بات کریں تو مسلم علاقوں میں بوتھوں پر بہت زیادہ بھیڑ دیکھی گئی۔ ایسے میں اگر سہارنپور، کیرانہ، مظفر نگر، پیلی بھیت اور مرادآباد جیسی سیٹوں پر اقلیتی ووٹوں کا پولرائزیشن ہوتا ہے تو اپوزیشن کی پوزیشن مضبوط رہے گی۔ (دی کوئنٹ)









