مئو :(ایجنسی)
اکھلیش یادو کے نام پر اہلکاروں کو دھمکیاں دینے کے معاملے میں پولیس نے مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری کے خلاف شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔ الیکشن سے ٹھیک پہلے عباس نے ایک جلسہ عام میں کہا تھا کہ اگر ایس پی کی حکومت بنتی ہے تو پہلے عہدیداروں کا حساب کتاب ہوگا۔ اسی بیان کی بنیاد پر عباس کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ کمیشن نے ان کی انتخابی مہم پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ اب عباس کے خلاف درج مقدمے میں کئی دفعات بڑھا دی گئی ہیں۔
اس بار مختار انصاری کی روایتی سیٹ مئو صدر سے ایس پی کے اتحادی سہیل دیو سماج پارٹی نے عباس انصاری کو میدان میں اتارا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران عباس نے اکھلیش یادو کا نام لیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی بھیا سے بات ہوئی ہے۔ ایس پی حکومت بننے کے بعد چھ ماہ تک یہاں کے افسران کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔ پہلے سب کا حساب کتاب ہو گا۔
عباس کا بیان تیزی سے وائرل ہونے پر ان کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تپا۔ الیکشن کمیشن نے بھی عباس کے بیان کو سنجیدہ سمجھتے ہوئے ان پر انتخابی مہم چلانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
عباس انصاری بھلے ہی مئو صدر سے جیت کر ایم ایل اے بن گئے ہوں لیکن بی جے پی کی زبردست جیت کے ساتھ ہی پولیس نے بھی ان پر شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔ احتساب کے بیان کے بعد عباس انصاری کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اسی کیس میں عباس کے خلاف دفعہ 186 (سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنا)، سیکشن 189 (سرکاری ملازم کو دھمکیاں دینا)، دفعہ 153 اے (کسی خاص طبقے کے خلاف بیان یا پریشان کرنے کی کوشش) اور دفعہ 120 بی (مجرمانہ سازش) کی توسیع کی گئی ہے۔
نئی دفعہ شامل کرنے کے سوال پر مؤ کوتوالی کے انسپکٹر کا کہنا ہے کہ پہلا مقدمہ عباس کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا درج کیا گیا تھا۔ تفتیش میں دیگر چیزیں سامنے آئیں تو دفعات بڑھا دی گئی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے اگلے ہی دن دفعہ میں اضافہ کر دیا گیا تھا۔










