لکھنؤ :(ایجنسی)
اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت اپنی دوسری میعاد میں کئی اور اضلاع کے نام بدل سکتی ہے۔ حکومت نے اپنی پہلی میعاد میں فیض آباد کا نام بدل کر ایودھیا اور الٰہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج کر دیاتھا۔ لیکن دوسری بار حکومت میں آنے کے بعد بی جے پی کے لیڈروں کی طرف سے تمام جگہوں کے نام بدلنے کی تجاویز حکومت کے سامنے آنے لگی ہیں۔
بی جے پی کے لوک سبھا ایم پی مکیش راجپوت نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ فرخ آباد کا نام بدل کر پنچال نگر رکھا جائے۔ انہوں نے خط میں کہا ہے کہ قدیم زمانے میں فرخ آباد علاقہ پنچال کی راجدھانی تھا اور اس وقت بہت سے جین اور بدھ مت کے سنتوں نے بھی یہاں تبلیغ کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مغل حکمران فرخ شیار نے ہندوستانی تہذیب کو تباہ کرنے کے لیے 1714 میں اس کا نام تبدیل کر دیا تھا۔
انتخابی مہم کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ نے اشارہ دیا تھا کہ بدایوں کا نام بدل کر ویدامو رکھا جائے گا۔ دائیں بازو کی کئی تنظیموں نے ریاستی حکومت سے سلطان پور، مرزا پور، علی گڑھ، فیروز آباد اور مین پوری کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ غازی پور اور بستی اضلاع کے نام تبدیل کرنے کی تجویز بھی یوگی حکومت کی پہلی میعاد میں آچکی ہے ۔
بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے دکن ہیرالڈ کو بتایا کہ سلطان پور کا نام کش بھون پور، علی گڑھ کو ہری گڑھ، مین پوری کا نام مین نگر، فیروز آباد کو چندر نگر اور مرزا پور کا نام وندھیا دھام رکھنے کی تجویز ہے۔
اس کے علاوہ دائیں بازو کی تنظیموں نے آگرہ کا نام بدل کر اگرون، مظفر نگر کا نام لکشمی نگر اور اناؤ ضلع کے میا گنج کا نام مایا گنج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نام بدلنے کی یہ سیاست اتر پردیش سے شروع ہو کر دوسری ریاستوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔ کچھ مہینے پہلے، مدھیہ پردیش کے حبیب گنج ریلوے اسٹیشن کا نام بدل کر رانی کملا پتی اسٹیشن رکھا گیا تھا۔ اسی طرح احمد آباد کا نام بدل کر کرناوتی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نام بدلنے کی اس سیاست کو لے کر بی جے پی مخالف پارٹیوں کے نشانے پر رہی ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کی مخالفت اور سوشل میڈیا پر زبردست ردعمل کے بعد بھی یوگی حکومت اپنے دوسرے دور میں کئی اضلاع کے نام بدلے گی یا نہیں۔؟










