اتر پردیش کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے پیر کی صبح متھرا، علی گڑھ، غازی آباد، ہاپوڑ، میرٹھ اور سہارنپور کے اضلاع میں پناہ گزین کیمپوں پر چھاپے مار کر 74 روہنگیا پناہ گزینوں کو گرفتار کیا۔
اے ٹی ایس نے ایک بیان میں کہا کہ روہنگیا ریاست میں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔ یہ چھاپہ ریاستی حکومت اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کی ہدایت پر اے ٹی ایس کو اطلاع ملنے کے بعد مارا گیا کہ روہنگیا غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے بعد ریاست میں آباد ہو رہے ہیں۔
مکتوب میڈیا کی خبر کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں 5 افراد نابالغ، 14 خواتین اور 55 مرد شامل ہیں۔ یوپی اے ٹی ایس کی طرف سے جاری کردہ فہرست کے مطابق ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جسے "روہنگیا آپریشن” کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ گرفتار خواتین میں سے کم از کم ایک حاملہ ہے۔
روہنگیا ہیومن رائٹس انیشیٹو (RHRI) نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 200 پناہ گزینوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتاریوں کو "من مانی” اور "غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ "200 سے زیادہ روہنگیا پناہ گزینوں کو جن میں خواتین، بچے، بوڑھے افراد، معذور افراد اور حاملہ خواتین شامل ہیں، کو بغیر کسی رجسٹرڈ فرسٹ انفارمیشن رپورٹس کے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔”
مکتوب میڈیا کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ پناہ گزینوں کے پاس اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) سے تصدیق شدہ شناختی کارڈز ہیں، جو تحفظ اور امداد کے مستحق افراد کے طور پر ان کی حیثیت کو مزید واضح کرتے ہیں۔
آر ایچ آر آئی نے حکام پر زور دیا کہ وہ حراست میں لیے گئے افراد کی حفاظت اور وقار کی حفاظت کریں۔
آر ایچ آر آئی کے ڈائریکٹر صابر کیاو من نے کہا، "ہم نسل کشی سے بچ جانے والے ہیں، ہم یہاں انسانی بنیادوں پر پناہ لینے آئے تھے، لیکن ہمیں یہاں سیاسی ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "انسانی بنیادوں پر کوئی بھی انسان غیر قانونی نہیں ہے، ہمارے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے دستاویزات موجود ہیں کہ ہم پناہ گزین ہیں، اور اگر وہ ہمیں پناہ گزین نہیں کہنا چاہتے تو بھی وہ ہمیں غیر قانونی تارکین وطن کے بجائے میانمار کے باشندے کہیں۔”








