اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہندوستان کی جنگ آزادی میں اردو کا حصہ

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
ہندوستان کی جنگ آزادی میں اردو کا حصہ
737
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ڈاکٹر سیفی سرونجی

پروفیسر شارب ردولوی نے لکھا ہے ’’ہندوستان کی جنگ آزادی دو ہتھیاروں سے لڑی گئی ۔ایک اہنسا اور دوسرا اردو زبان ،لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ میں ان تمام لڑائیوں کو اہمیت نہیں دیتا جو میرٹھ کے سپاہیوں ، دہلی کے باغیوں ،نانا صاحب، جھانسی کی رانی ،شاہانِ اودھ یا سبھاش چندر بوس نے لڑیں اور انگریزی اقتدار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ، جس پر قابو پانے کے لئے انگریزوں نے ان گنت بے گناہوں اور عورتوں کو نہایت بے دردی سے پھانسی دے دی ، توپ کے منہ میں باندھ کر اُڑا دیا ، گولیوں سے بھون دیا بلکہ اسے تو اور سو سال پیچھے سے شروع کرنے کی ضرورت ہے یعنی ۱۸۵۷ء میں پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ کی شکست اور شہادت سے جس پر اردو شاعری نے اپنا ردِّ عمل ان الفاظ میں ظاہر کیا ؎

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گذری

صحیح معنوں میں آزادی کی پہلی چنگاری تو ۱۸۵۷ء میں ہی پھیلی تھی اور اس کا سارا Creditاردو زبان کو جاتا ہے ، خاص طور پر اردو شاعری کو اس لئے کہ یہ اردو زبان ہی ہے جس نے انقلاب جیسا نعرہ دیا ، یہ اردو شاعری ہی کا کمال تھا کہ دلوں میں آزادی کی تحریک نے جنم لیا ، جوش پیدا ہوا۔ یہاں کچھ ایسے ہی اشعار پیش کرتا ہوں ،جنھیں پڑھنے کے بعد اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سننے والوں پر کیا کیفیت طاری ہوتی ہوگی ؎

لبا لب پیالہ بھرا خون سے
فرنگی کو مارو بڑی دھوم سے

٭
روز ہوتا ہوں نئے شخص کے گھر میں روپوش
آج پھانسی کی خبر ہے تو اسیری کی کل

٭
خدا کرے کہ دین کے دشمن تباہ و برباد ہو جائیں
خدا کرے کہ فرنگی نیست و نابود ہو جائیں

٭
قربانیاں دے کے عید قرباں کے تہوار مناؤ
اور دشمن کو تہہ تیغ کرو کہ کوئی بچنے نہ پائے

٭
دمدمے میں دم نہیں اب خیر مانگو جان کی
اے ظفر ٹھنڈی ہوئی شمشیر ہندوستان کی
غازیوں میں بُو رہے گی جب تلک ایمان کی
تو لندن تک چلے گی تیغ ہندوستان کی
٭

اس طرح کے شعروں اور نعروں سے اردو شاعری بھری پڑی ہے ،جس نے عوام کے دلوں میں جذبات کا ایک طوفان برپا کر دیا تھا اور دیش کا بچہ بچہ آزادی کی جنگ میں کود پڑا تھا ۔ ۱۸۵۷ء میں آزادی کی پہلی چنگاری بہت جلد ایک شعلہ بن گئی اور اندر ہی اندر یہ آگ بڑھتی رہی جو ۱۹۴۷ءمیں جاکر بجھی ۔ اس درمیان یعنی انگریزی دور حکومت میں اردو زبان کے اخبارات ، اردو کی تقریروں اور شاعری نے ایک ایسی فضا تیا ر کی کہ ملک کی عوام اپنے وطن کو آزاد کرانے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہو گئی ۔ بے شمار لوگوں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا ، ہزاروں علماء، شاعر ادیب جیلوں میں ٹھونس دیے گئے یا قتل کر دیے گئے ۔ پروفیسر علی احمد فاطمی لکھتے ہیں :

’’محمد حسین آزاد کے والد مولانا محمد باقر کو گولی سے ہلاک کر دیا گیا ، مشہور شاعر امام بخش صہبائی کو ان کے دو بیٹوں کے ساتھ گولی سے اُڑا دیا گیا ، مصطفی خاں شیفتہ کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال د یا گیا ، مشہور و معروف عالم مولانا فضل حق کو جلا وطن کرکے انڈومان بھیج دیا گیا ،جہاں ان کا بعد میں انتقال ہو گیا ۔ منیر شکوہ آبادی کی نظموں میں اس وقت کے حالات کا پتہ چلتا ہے ، ان کو گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلایا گیا ۔ ان سب کی تخلیقات کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ایک ایک شعر میں اس عہد کی تصویر نظر آئے گی ۔‘‘

اردو شاعری نے کل بھی وہ رول ادا کیا تھا اور آج بھی ہم اس عہد کی شاعری کو دیکھ کر یہ تاریخ مرتب کر رہے ہیں ۔ کون سا ایسا شاعر ہے جس نے اپنے وطن کے لئے کچھ نہ لکھا ہو ، علا مہ اقبال،حسرت موہانی، شاد عظیم آبادی، آنند نارائن ملا، درگا سہائے سرور،سیماب اکبر آبادی، برج نارائن چکبست،جگر مرادآبادی، محمد علی جوہر، تلوک چند محروم، ظفر علی خاں، جوش ملیح آبادی جیسے سیکڑوں نام لئے جا سکتے ہیں ۔اس سلسلے میں پروفیسر گوپی چند نارنگ کی کتاب ’ہندوستان کی تحریک آزادی اور اردو شاعری‘ بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ نارنگ صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں :

’’بیسویں صدی کے آغاز میں حالی، اقبال،سرور اور چکبست کے کلام کے اثر سے اردو شاعری کا دل وطن اور قومی تحریکوں کی تال پر دھڑکنے لگتا ہے ۔ اسماعیل میرٹھی، وحید الدین سلیم، شوق قدوائی ، عظمت اللہ خاں اور برج موہن کیفی نے بھی اس سلسلے میں بعض اچھی نظمیں لکھیں، وطنی اور ملّی نظمیں لکھنے کا شرف نذیر احمد کو بھی حاصل ہے ،لیکن شاعری ان کی پہچان نہیں ۔ وہ اس کوچہ میں بہت جلد سپاٹ ہو جاتے ہیں اور انگریزوں کی مداحی پر اتر آتے ہیں ۔‘‘یہاں ساری بحث کو چھوڑتے ہوئے چند نظموں کے اقتباس پیش کرتا ہوں ؎

اُٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

اُٹھو مِری دُنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و دیوار ہلا د و
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر گوشہ گندم کو جلا دو
(علامہ اقبال)

بظاہر ان دونوں نظموں میں غریب کسانوں سے خطاب ہے ،لیکن اس میں غریب کسان کی پوری زندگی چھپی ہے کہ وہ اگر غریب ہے تو کیوں ہے ؟ اپنی محنت کے باوجود اسے پیٹ بھر کھانا کیوں نہیں ملتا؟کہاں تک وہ لگان دے کر انگریزوں پر اپنی محنت کا پھل لٹاتا رہے؟انقلاب کی دبی چنگاری کو اقبال نے اپنی شاعری میں ابھارا ہے کہ کسان کے اندر ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے ؎

ہل چکا ہے تخت شاہی گر چکا ہے سر سے تاج
ہر قدم ڈگمگایا جا رہا ہے سامراج
(علی سردار جعفری)

تھا زبانوں پر یہ نعرہ آشیاں کو چھوڑ دو
چھوڑ دو اے غاصبو ہندوستاں کو چھوڑ دو
(شمیم کرہانی )

ہندوستاں کی دولت و حشمت جو کچھ کہ تھی
کافر فرنگیوں نے بہ تدبیر کھینچ لی
( مصحفی )

اک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کی
جس کی سُرخی کو ضرورت ہے تمہارے خون کی
( جوش ملیح آبادی )

عمر زنداں میں کئی شوقِ رہائی رخصت
ہو گیا انس مرے پائوں کو زنجیر کے ساتھ
(اکبر الٰہ آبادی )

جوش ملیح آبادی کی نظم ’شکست زنداں کا خواب‘ نے باقاعدہ ایک انقلاب برپا کیا تھا ؎

کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں
اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں
دیواروں کے نیچے آ آکر یوں جمع ہوئے ہیں زندانی
سینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریں
بھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیں
تقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ہیں تدبیریں
سنبھلو کی وہ زنداں گونج اٹھا جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئے
اٹھو کہ وہ بیٹھیں دیواریں دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں

ان اشعار کو پڑھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اردو شاعری نے جنگ آزادی میں کیا رول ادا کیا ہے ۔ افسوس۔۔۔ جس زبان نے ہمیں آزادی دلوائی ، آج وہی زبان بے گھر ہے ؎

ہم اپنے عہد کا ورثہ تو کھو چکے ہیں تمام
جو بچ سکے تو یہ اردو زبان ہی رکھ لیں

(بشکریہ ’انتساب عالمی ‘)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN