جو بائیڈن کی انتظامیہ اسرائیل کو پانچ سو پاؤنڈ وزنی بموں کی ترسیل دوبارہ شروع کر رہی ہے، یہ بات بدھ کے روز ایک امریکی عہدہ دار نے کہی۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے دو ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی فراہمی اب بھی روکی ہوئی ہے کیونکہ ان کے غزہ میں زیادہ آبادی والے علاقوں میں استعمال سے متعلق انتظامیہ کو تشویش ہے۔
امریکہ نے مئی کے مہینے میں دو ہزار پاؤنڈ اور پانچ سو پاؤنڈ کے بموں کی اسرائیل کو ترسیل روک دی تھی کیونکہ امریکی حکومت کو ان کے غزہ میں استعمال پر تشویش تھی۔
انتظامیہ کو ان بموں کے رفح میں استعمال پر خصوصی طور پر تشویش تھی جہاں دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی تھی۔
امریکی عہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انتظامیہ کو اسرائیلی مہم کے دوران رفح میں اور دیگر مقامات پر دو ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کے استعمال پر تشویش تھی، اور اب بھی ہے۔
اس عہدہ دارکا کہنا ہے کہ پانچ سو پاؤنڈ والے بم بھی اسی شپمنٹ کا حصہ تھے، اس لیے ان کی ترسیل بھی زیادہ وزنی بموں کے ساتھ روک دی گئی تھی۔امریکہ نے اسرائیل کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ پانچ سو پاؤنڈ وزنی بموں کی ترسیل شروع کر رہا ہے۔میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل روک رہا ہے، اور انہوں نے امریکی حکام سے اپیل کی تھی کہ اس صورت حال کا حل نکالا جائے۔ بائیڈن کے مشیروں نے اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔
واشنگٹن کے دورے کے موقعے پر اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے اور رکاوٹوں کو ختم کیا گیا ہے۔اس ایک ترسیل کے روکے جانے کے علاوہ امریکہ نےاسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھی تھی۔









