رام نگر: (ایجنسی)
رام نگر کے بیڈاجھال میں ہفتہ کو مذہب تبدیل کرنے کے الزام کو لے کر ہنگامہ ہوگیا ۔ معاملہ اس وقت گرمایا جب کرائے پر رہنے والے ایک جوڑے پر لوگوں کو تبدیلی مذہب کیلئے راغب کرنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ۔ تاہم ابھی تک اس طرح کی کوئی آفیشیل جانکاری نہیں ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ نندن سنگھ بشٹ ، جنہوں نے مذہب تبدیل کرنے کے بعد عیسائی مذہب اختیار کر لیا ہے ، گزشتہ 10 ماہ سے کرائے پر ایک مکان میں رہتے ہیں ۔ وہاں پر صبح و شام پریئر کی جاتی ہے ۔ محلے کے کچھ لوگ بھی اس میں شریک ہوتے ہیں ، لیکن جوڑے نے انہیں کبھی مدعو نہیں کیا ، پھر بھی کچھ کچھ لوگ اس پریئر میں شامل ہوتے ہیں ۔’
جب بجرنگ دل کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے اس پر اعتراض کیا اور پھر اس کو تبدیلی مذہب کے معاملہ سے جوڑ کر دیکھا جانے لگا ۔ یہ اطلاع پولیس کو دی گئی جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر جوڑے کو اپنی تحویل میں لے لیا ۔ اب پولیس معاملہ کی تفتیش میں مصروف ہوگئی ہے ۔
بتایا جا رہا ہے کہ نندن سنگھ بشٹ کو کسی عیسائی فاؤنڈیشن سے ہر ماہ کچھ رقم ملتی ہے ۔ اس پورے معاملہ میں رام نگر کوتوال آشوتوش سنگھ نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں اس معاملہ کا علم ہوا تو انہوں نے جوڑے کو اپنی تحویل میں لے لیا ۔ ان کے خلاف تبدیلی مذہب کے لیے کام کرنے کے الزامات کی جانچ کی جا رہی ہے ۔ اس معاملہ میں جانچ کے بعد ہی کچھ پتہ چل پائے گا ۔
ادھر دوسری جانب پولیس کرایہ دار کو پولیس ویری فیکیشن کے بغیر رکھنے پر مالک مکان کے خلاف مقدمہ درج کر سکتی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ مالک مکان نے کرایہ دار کا پولیس ویریفیکیشن نہیں کرایا ہے۔










