ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں کے تئیں اپنائے گئے انتہا پسندانہ رویہ اور اترکاشی کے پرولا قصبے میں ہنگامہ آرائی کے امکان کو دیکھتے ہوئے 35 مسلم خاندان مستقل طور پر شہر چھوڑ چکے ہیں اور 6 مسلم خاندان عارضی طور پر شہر چھوڑ چکے ہیں۔ہندی پورٹل نیوزلانڈری نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے
رپورٹ کے مطابق دراصل، اترکاشی کی مقامی ہندوتوا تنظیموں نے ‘لو جہاد’ کا الزام لگاتے ہوئے 15 جون کو پرولا میں ہندو مہاپنچایت منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ساتھ ہی مسلم کمیونٹی کے دکانداروں کو پنچایت سے پہلے شہر چھوڑنے کی وارننگ دی گئی۔
واضح رہے کہ اس معاملے میں 29 مئی کو پرولا شہر میں ہندوتوا تنظیموں نے لو جہاد کے خلاف ایک ریلی نکالی تھی۔ اس دوران مسلمان دکانداروں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ جس کی وجہ سے مسلم کمیونٹی کے دکاندار اپنے اہل خانہ سمیت شہر سے نقل مکانی کرنے لگے۔ 15 جون تک شہر کے تمام مسلم خاندان شہر چھوڑ چکے تھے، جن میں سے اکثر نے پرولا کو مستقل طور پر الوداع کہہ دیا تھا۔
تقریباً 18000 کی آبادی والے اس شہر میں 200 سے 250 افراد کا تعلق مسلم کمیونٹی سے تھا۔ 14 تاریخ کی صبح تک زیادہ مسلمان شہر چھوڑ چکے تھے۔
کچھ لوگ 29 مئی کی ریلی کے بعد مسلمانوں کی دکانوں پر لگائے گئے پوسٹروں کو اس کی وجہ سمجھتے ہیں۔ جس میں اسے 15 جون سے پہلے شہر چھوڑنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
مسلم کمیونٹی کے اس اخراج پر پرولا کی وشو ہندو پریشد کے کارگزار صدر وریندر سنگھ راوت کہتے ہیں، "ہم نے کسی کو شہر چھوڑنے کے لیے نہیں کہا ہے۔ جو گیا ہے وہ اپنی مرضی سے گیا ہے۔
وہ دھمکی آمیز پوسٹروں کے لیے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’یہ پوسٹرز مسلمانوں نے خود اپنی دکانوں پر ہندوؤں کو بدنام کرنے کے لیے لگائے تھے۔‘‘
وہیں پرولا سے بی جے پی جنرل سکریٹری راہل دیو نوتیال نقل مکانی کو درست مانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ”کچھ لوگ ہماری دیو بھومی کو آلودہ کر رہے ہیں۔ یہاں آ کر وہ ‘لینڈ جہاد’ اور ‘لو جہاد’ کرتے ہیں، تو اچھا ہوا کہ وہ یہاں سے چلے گئے۔







