نئی دہلی :(ایجنسی)
رام نومی پر شوبھایاترا اور جلوس کے دوران کئی ریاستوں میں ہنگامہ ہواہے۔ ان ریاستوں میں گجرات، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال شامل ہیں۔
گجرات کے آنند ضلع کے کھمبھات اور سابر کانٹھا ضلع کے ہمت نگر میں فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان دونوں علاقوں میں پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعات پیش آچکے ہیں اور حالات کو سنبھالنے کے لیے پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ کھمبھات میں ایک 65 سالہ شخص کی لاش ملی ہے، جبکہ ہمت نگر میں بھیڑ نے کچھ دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔
ہاوڑہ کے شیو پور میں کشیدگی
بنگال کے ہاوڑہ میں کشیدگی کے بعد بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ شیو پور علاقے میں تصادم کے بعد حالات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے رام نومی کے جلوس پر حملہ کیا۔ پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کسی قسم کی جھوٹی خبریں نہ پھیلائیں۔
کھرگون میں کرفیو نافذ
بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر مدھیہ پردیش کے کھرگون میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل کلکٹر ایس ایس مجالدے نے کہا کہ تالاب چوک علاقہ میں جلوس پر مبینہ طور پر پتھراؤ کیا گیا۔ اس سے قبل لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے گانے بجانے پر دو برادریوں کے لوگوں کے درمیان جھگڑا ہوا ۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو صورتحال کو سنبھالنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ اس دوران کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ اس ہنگامہ آرائی میں پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ہنگامہ آرائی میں چار مکانات کو آگ لگا دی گئی اور ایک مندر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔
لوہاردگا میں پتھراؤ اور آتش زنی
اسی طرح جھارکھنڈ کے لوہاردگا میں رام نومی کے جلوس کے دوران پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں اور 3 لوگوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح کا تشدد کرناٹک کے کولار اور راجستھان کے کرولی میں بھی بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ اس تشدد کو لے کر سوشل میڈیا پر بھی ماحول کافی گرم ہے اور اس سے متعلق تصاویر لگاتار شیئر کی جا رہی ہیں۔










