اردو
हिन्दी
اکتوبر 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

خبردار!موبائل فون کینسر پیدا کرتا ہے؟

6 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ Uncategorized, متفرقات
A A
0
خبردار!موبائل فون کینسر پیدا کرتا ہے؟

sleep-with-their-phones

79
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

سید عاصم محمود

برطانیہ میں ’’چلڈرن ود کینسر‘‘ نامی ایک سماجی تنظیم نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے غریب گھرانوں کے ان بچوں کا مفت علاج کراتی ہے جو کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوں۔ کچھ عرصہ قبل تنظیم نے سائنسدانوں کی ایک ٹیم کو یہ کام سونپا کہ وہ تحقیق کرکے دیکھیں، پچھلے بیس سال میں دماغی کینسر کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے یا کمی آئی؟سائنسداں اس تحقیق پر جت گئے۔ پچھلے ہفتے اس تحقیق کا نتیجہ سامنے آیا۔ اس کی رو سے بیس سال پہلے برطانیہ میں ہر سال ’’ایک ہزار پچاس ‘‘انسان دماغی کینسر کی ایک قسم، گلیو بلاسٹو ما ملٹی فورم (Glioblastoma Multiforme ) میں مبتلا ہوتے تھے۔ اب مریضوں کی تعداد ’’تین ہزار‘‘ تک پہنچ چکی۔ یاد رہے، گلیوبلاسٹوما ملٹی فورم دماغی کینسر کی انتہائی خطرناک قسم ہے۔
خاص بات یہ کہ نتائج بیان کرتے ہوئے سائنسدانوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ موبائل فون اور سمارٹ فون سے نکلنے والی ریڈیائی لہریں بھی دماغی کینسر پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان جملوں نے برطانیہ میں طوفان کھڑا کردیا۔ بعض طبی ماہرین نے سائنسدانوں کا خدشہ درست قرار دیا۔ کئی ماہرین سمجھتے ہیں کہ ریڈیائی لہریں انسان میں کینسر پیدا نہیں کرسکتیں۔
ریڈیائی لہریں ’’برق مقناطیسی شعاع ریزی‘‘ کی ایک قسم ہیں۔ ان لہروں میں گاما، ایکسرے، الٹراوائٹ، روشنی، انفراریڈ، مائکرو ویو اور ریڈیائی لہریں شامل ہیں۔ ان ساتوں لہروں کو ’’ویولینتھ‘‘ (دور جانے کی صلاحیت) اور ’’فریکوئنسی‘‘ (لہروں کے اوپر نیچے ہونے کے چکر) کے لحاظ سے تقسیم کیا گیا ہے۔قابل ذکر بات یہ کہ یہ سبھی لہریں انسانی جسم میں داخل ہوکر ہمارے خلیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتی ہیں۔ اگر کسی لہر کی شدت کم ہے، تو وہ خلیوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچاتی۔ لیکن شدت زیادہ ہے تو وہ کسی بھی خلیے یا خلیوں کا قدرتی ڈھانچا تباہ کرسکتی ہے۔ خلیوں میں خرابی آنے کی وجہ ہی سے انسان کینسر کا نشانہ بن جاتا ہے۔
گاما لہروں کی ویولینتھ اور فریکوئنسی سب سے کم ہے۔ اس لیے یہ انسانی جسم کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ہے کہ کم مقدار میں لہریں بھی زیادہ شدت رکھتی ہیں۔ مگر طرفہ تماشہ یہ کہ گاما لہریں قیمتی انسانی جانیں بچانے میں بھی کام آتی ہیں۔ دراصل مطلوبہ مقدار میں گاما لہریں انسانی جسم میں کینسر کے خلیے مار ڈالتی ہیں۔ اسی لیے بعض اقسام کے کینسروں کا علاج کرتے ہوئے استعمال ہوتی ہیں۔تاہم روزمرہ زندگی میں انسان کا گاما لہروں سے کم ہی واسطہ پڑتا ہے۔برق مقناطیسی شعاع ریزی میں شامل تمام لہروں میں ریڈیائی لہریں سب سے لمبی ویولینتھ اور فریکوئنسی رکھتی ہیں۔ اسی لیے ریڈیو، ٹی وی سے لے کر جنگی ریڈاروں اور موبائل فونوں تک مواصلاتی ڈیٹا کی ترسیل میں ریڈیائی لہریں کام آتی ہیں۔ ’’ٹرانسمیٹر‘‘ ڈیٹا کی حامل ریڈیائی لہریں پیدا کرتے اور ’’رسیور‘‘ انہیں پکڑ لیتے ہیں۔لمبی ترین ویولینتھ اور فرئکوئنسی رکھنے والی ریڈیائی لہریں زیادہ سے زیادہ ایک سو کلو میٹر تک جاسکتی ہیں۔ لہٰذا اگر ڈیٹا رکھنے والی ریڈیائی لہروں کو مزید آگے پہنچانا مقصود ہے، تو ہر سو کلو میٹر بعد ریسور لگائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے آج ہر ملک میں کھمبوں کی شکل میں ریسیوروں کا جال بچھا نظر آتا ہے۔واضح رہے،بجلی کے کھمبے بھی برق مقناطیسی شعاع ریزی خارج کرتے ہیں۔اسی لیے ان کے نزدیک رہائش رکھنے سے اجتناب برتنے میں فائدہ ہے۔جیسا کہ بتایا گیا ہے، ریڈیائی لہریں بھی انسانی جسم میں داخل ہوکر ہمارے خلیوں اور ان کے سالمات (مالیکیولز) سے چھیڑ چھاڑ کرتی ہیں۔ تاہم کم شدت رکھنے کی وجہ سے یہ چھیڑ چھاڑ زیادہ خطرناک نہیں ہوتی… لیکن یہ طبی ماہرین کا محض ’’خیال‘‘ یا ’’نظریہ‘‘ ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ اگر کوئی انسان طویل عرصہ ریڈیائی لہروں کی زد میں رہے، تو اس کے خلیے بھی خراب ہوکر کینسر زدہ ہوسکتے ہیں۔ آخر پتھر پر مسلسل پانی کا قطرہ گرتا رہے، تو ایک دن وہ بھی اس میں سوراخ کردیتا ہے۔
دنیا میں بہت سے ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کو یہی خدشہ ہے کہ ریڈیائی لہریں رفتہ رفتہ بنی نوع انسان کیلئے خطرناک بن رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ موبائل اور اسمارٹ فون کا بڑھتا استعمال ہے۔ آج دنیا میں ’’پانچ ارب‘‘ سے زائد انسان موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ کئی کروڑ تو ایسے ہیں کہ چوبیس گھنٹے موبائل فون، اسمارٹ فون ان کے ساتھ چمٹا رہتا ہے۔ گویا یہ لوگ چوبیس گھنٹے ریڈیائی لہروں کی زد میں رہتے ہیں۔اب طبی ماہرین تجربوں اور تحقیق کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ انسان اگر مسلسل ریڈیائی لہروں کی زد میں رہے، تو اس کی صحت پر کس قسم کے منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں؟ ابھی تک کوئی ایسی تحقیق سامنے نہیں آئی جو براہ راست کسی مرض کا موجد ریڈیائی لہروں کو قرار دے ڈالے۔ تاہم وقتاً فوقتاً طبی تحقیقات کے ایسے نتائج ضرور سامنے آرہے ہیں جو ریڈیائی لہروں کی طرف شک و شبے کی نگاہ سے انگی اٹھاتے ہیں۔ ’’چلڈرن ود کینسر‘‘ کے محققوں کی تحقیق بھی اسی قسم کی ہے۔سچ یہ ہے کہ طبی سائنس اب تک دریافت نہیں کرسکی کہ اگر کوئی انسان چوبیس گھنٹے ریڈیائی لہروں کی زد میں رہے، تو اس کی صحت پر کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔لیکن یہ عین ممکن ہے کہ وہ کسی عجیب و غریب بیماری میں مبتلا ہوجائے۔ آج کل پوری دنیا میں کیا بچے اور کیا بڑے، بہت سے انسان یکایک کسی بیماری کا نشانہ بنتے اور دیکھتے ہی دیکھتے چل بستے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا نت نئی بیماریوں کے جنم دینے میں ریڈیائی لہروں کا بھی ہاتھ ہے؟ آخر بیسویں صدی سے قبل پوری انسانی تاریخ میں ریڈیائی لہروں کا کوئی وجود دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے پچھلے ایک سو برس سے انسانوں کو اپنی لہروں میں نہلانا شروع کیا ہے۔
اگر ریڈیائی لہریں طویل المیعاد طور پر مضر صحت اثرات رکھتی ہیں تو ان سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ موبائل فون صرف ضرورت کے وقت ہی استعمال کریں۔ خاص طور پر اسے دماغ کے قریب کم سے کم لے جائیں۔ اگر لمبی کال کرنا ہے، تو ہینڈ فری آلہ استعمال کریں۔ یوں موبائل سے پھوٹنے والی ریڈیائی لہریں دماغ کے خلیوں سے بہ شدت چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گی۔یاد رکھیے! صحت دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔ آپ کی تھوڑی سی احتیاطیں آپ کو اس دولت سے مالا مال کرسکتی ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جان ہے تو جہاں ہے!لہٰذا ہر ممکن حد تک ریڈیائی لہروں سے بچئے اور ان کے طویل المیعادی منفی اثرات سے محفوظ رہیے۔n

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Uncategorized

امریکی تھنک ٹینک نے کیوں کہا: 2026 میں ہندوپاک کے درمیان جنگ ہوگی؟ یہ ہیں وجوہات

31 دسمبر
Iran Israel War Warning
Uncategorized

ایرانی وزیر خارجہ نےکہا، ہم پر ایک حملہ ہوسکتا ہے،جنگ کے لیے پہلے سے زیادہ تیار، اسرائیل کا بھی جواب آیا

22 دسمبر
Uncategorized

ترکیہ کی خاتون اول امینہ ایردوان کا غزہ کے حالات پر میلانی ٹرمپ کے نام  خط،حساسیت کے مظاہرہ کی اپیل

23 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

جنتر منتر نہیں، مودی حکومت کو اپنا طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے: احتجاجی مقام بدلنے سے عوامی سوال ختم نہیں ہوں گے

جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

اکتوبر 14, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

جنتر منتر نہیں، مودی حکومت کو اپنا طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے: احتجاجی مقام بدلنے سے عوامی سوال ختم نہیں ہوں گے

اکتوبر 14, 2026
جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

اکتوبر 14, 2026
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026

حالیہ خبریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

اکتوبر 14, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

جنتر منتر نہیں، مودی حکومت کو اپنا طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے: احتجاجی مقام بدلنے سے عوامی سوال ختم نہیں ہوں گے

اکتوبر 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN