نئی دہلی:حکومت نے جمعرات کو سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں کسی بھی وقت انتخابات کے لیے تیار ہے۔ اس نے کہا ہے کہ انتخابات پر فیصلہ اب الیکشن کمیشن اور ریاستی الیکشن کمیشن کو لینا ہے۔ مرکز کا یہ بیان آرٹیکل 370 کے خاتمے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کے دوران آیا ہے۔ مرکز نے پہلے دلیل دی تھی کہ جموں و کشمیر ایک الگ ریاست ہے اور اس لیے تقسیم درکار ہے۔
حکومت سپریم کورٹ کے اس سوال کا جواب دے رہی تھی کہ جموں و کشمیر میں انتخابات کب ہو سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں آرٹیکل 370 پر سماعت کے 12 ویں دن مرکزی حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حیثیت عارضی ہے، حالانکہ اس نے ریاست کا درجہ واپس دینے کی کوئی آخری تاریخ مقرر کرنے سے گریز کیا۔
آرٹیکل 370 سے متعلق سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں انتخابات کے انعقاد کو لے کر سپریم کورٹ میں اہم جواب دیا ہے۔ مرکز نے سپریم کورٹ سے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ لیہ میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے ہیں، جبکہ کارگل میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات میں 45.2 فیصد کمی آئی ہے۔ میں 2018 کے حالات کا 2023 کے حالات سے موازنہ کر رہا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی دراندازی میں 90.2 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں حالات بہتر ہو رہے ہیں۔‘








