اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیں غزہ شہر کے مضافات میں داخل ہوئی ہیں۔ یہ اقدام غزہ کی پٹی کے شمالی نصف حصے میں حماس کے جنگجوؤں پر حملے کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا۔ جاری بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ ہم جنگ کے عروج پر ہیں۔ ہم نے حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں اور غزہ شہر کے مضافات کو عبور کیا ہے۔ ہم پیش رفت کر رہے ہیں۔ ہماری افواج میں بہت سے نقصانات ہوئے ہیں۔ لیکن ہم اپنے جنگی اہداف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ وہ غزہ میں ایندھن کی کسی بھی کھیپ کے داخلے سے متفق نہیں ہیں۔ قبل ازیں اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی ہیلیوی نے جمعرات کو غزہ کی پٹی کے لیے ایندھن پر عائد پابندی میں نرمی کے لیے اپنی تیاری کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر وہاں کے ہسپتالوں میں ایندھن ختم ہو جاتا ہے تو انہیں اپنی نگرانی میں ایندھن کی سپلائی فراہم کرنا ممکن ہے۔
سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے کیے گئے اچانک حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر کے جوابی حملہ کیا تھا۔ اس وقت سے اسرائیل نے غزہ میں ایندھن داخل نہیں ہونے دیا ہے۔ غزہ کی پٹی کے ہسپتال اپنی بجلی کی سپلائی کی کمی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے اعلان کیا ہے کہ غزہ شہر کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔
ہگاری نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کا محاصرہ مکمل کر لیا ہے اور ہمارا مقصد حماس کی تحریک کو ختم کرنا ہے۔ دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے کہا ہے کہ غزہ اسرائیل کے لیے ایک لعنت ہو گا۔قبل ازیں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ ان کی افواج غزہ شہر میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ فوجی حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی میں مصروف ہیں اور دو بدو لڑائی ہو رہی ہے۔








