(ڈیسک) : اسرائیل کے سابق آرمی چیف دان ہالوتز نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل حماس کے خلاف جنگ ہار چکا ہے۔اسرائیلی حکومت کیخلاف مظاہرے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فتح اسی وقت ہوسکتی ہے جب نیتن یاہو اقتدار سے استعفیٰ دے دیں۔
اسرائیلی چینل 14کے مطابق ان کی یہ گفتگو حیفہ میں جاری حکومت مخالف مظاہرے کے دوران ریکارڈ کرلی گئی جبکہ نوجوان شرکاء نے انہیں کھل کر داد دی
ادھر اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس انتباہ کے بعد کہ جنگ میں شدت آنے والی ہے، اس بات پر اصرار کیا ہے کہ غزہ میں امن صرف اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب حماس کو "تباہ”، علاقے کو "غیر عسکری” اور فلسطینی معاشرے کو "غیر انتہاپسند” کر دیا جائے۔
یہ اعلانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی ادارۂ صحت نے پیر کے روز غزہ میں ایک پناہ گزین کیمپ پر کرسمس کے موقع پر ہونے والے حملوں میں جاں بحق ہونے والے پورے پورے خاندانوں کی "دردناک” کہانیوں کی اطلاع دی ہے۔
دریں اثنااسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلنٹ نے کہا کہ 7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیل کو کئی محاذوں پر جنگ کا سامنا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ بات وزراء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل پر 7 جگہوں سے حملے کیے جا رہے









