شیوموگا: بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلی کے ایس ایشورپا نے منگل کو یہ کہہ کر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے جو مسجد ‘غلامی’ کی علامت تھی اسے گرایا گیا تھا
خبررساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ۔”اسی طرح، ہم متھرا میں سری کرشنا مندر بھی بنائیں گے،” ۔
ایجنسی کا مطابق کرناٹک کے شیواموگا شہر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایشورپا نے کہا، ”تقریباً 496 سال قبل ایودھیا میں رام مندر کو تباہ کر دیا گیا تھا۔ مغل بادشاہ بابر نے مندر کے اوپر مسجد بنوائی تھی۔ بھگوان کی مہربانی سے ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اپنی زندگی میں رام للا کی مورتی کی تنصیب کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غلامی کی علامت ختم ہوگئی اور ہندوؤں کی عزت نفس کی عکاسی کرنے والا رام مندر تعمیر ہوا۔
بی جے پی لیڈر نے کہا "ہم ہر گھر میں منترکشٹے (ایودھیا میں پوجا جانے والے مقدس چاول) تقسیم کر رہے ہیں۔ آپ منترکشٹ کو اپنے مندر میں گھر میں رکھیں اور 22 جنوری کو دیوالی کے تہوار کی طرح اس موقع کو منائیں،‘‘ ۔
ایشورپا نے کہا "یہ ایک مقدس لمحہ ہے اور میں سیاست کے بارے میں بات نہیں کروں گا۔ بھگوان رام کے بھکتوں کو مدعو کیا جا رہا ہے۔ ان لیڈروں کے لیے جو "ایودھیا میں بی جے پی کا رام نصب ہے” جیسے بیانات جاری کر رہے ہیں، ان کے لیے تنصیب کا دعوت نامہ نہیں دیا گیا ہے۔ جو بھی رام کی پوجا کرتا ہے اور اس پر فخر محسوس کرتا ہے، اس میں شرکت کا خیرمقدم ہے،‘‘ ۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس وقت رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تھا اس وقت ہندو عبادت گاہوں کاشی اور متھرا میں سروے کرنے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔
انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ہمیں یہاں بھی مندر بنانے کے لیے عدالت میں سازگار فیصلہ ملے گا۔ ہم کاشی میں مسجد کو گرائیں گے اور کاشی مندر بنائیں گے۔ ہم متھرا میں سری کرشنا مندر بنائیں گے،‘‘ انہوں نے کہا۔









