نئی دہلی(پریس ریلیز)
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس عزت مآب جسٹس این وی رامن کو ایک خط لکھ کر ان سے گزارش کی کہ وہ ملک میں دستوری قدروں کی برقراری، قانون کی حکمرانی اور امن امان کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مرکزی حکومت و ہماچل پردیش کی ریاستی حکومت کو ہدایت دیں کہ وہ17اپریل کو شملہ میں یتی نرسنگھانند کی جانب سے منعقد ہونے والی دھرم سنسد پراسٹے لگادیں۔خط میں کہا گیا کہ اس سے قبل جو دھرم سنسد دسمبر 2021میں ہری دوار میں منعقد ہوئی تھی اس میں بڑی زہریلی تقاریر اور اشتعال انگیزنعرے لگائے تھے اور انہی یتی نرسنگھانند نے مسلمانوں کی نسل کشی کا ہندوئوں کو پیغام دیا تھا۔ جس کے بعد سے پورے ملک کی فرقہ وارانہ فضا انتہائی مخدوش ہوگئی جس کا نتیجہ حال ہی میں رام نومی کے موقع پر سات ریاستوں میں دیکھنے کو ملا۔
خط میں آگے کہا گیا کہ ہمیں خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا اور اتراکھنڈ حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس نے نفرت انگیز تقاریر اور نسل کشی کی دھمکی دینے والوں کے خلاف کیا قانونی قدم اٹھایا اوراس کی ایکشن ٹیکن رپورٹ عدالت عظمی کو پیش کرے۔
ڈاکٹر الیاس نے چیف جسٹس سے آگے کہا کہ ’’لیکن پھر ایک بار انہی لوگوں کی طرف سےاسی طرح کی دھرم سنسد 17 اپریل 2022 کو شملہ، ہماچل پردیش میں منعقد ہورہی ہے۔ گزشتہ تین دنون سے ملک کے انگریزی روزناموں کے ادارتی صفحات میں اس کا سخت نوٹس لیا جارہا اور مرکزی حکومت کی خاموشی کو اس کی تائید سےتعبیر کیا جارہا ہے۔ لہذا یہ کہاں تک مناسب ہوگا کہ اسے حکومت کے صوابدید پر چھوڑ دیاجائے‘‘۔
پارٹی کے قومی صدر نےجسٹس سے گزارش کی وہ اس دھرم سنسد کو اسٹے کرنے کے احکامات جاری کریں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پہلے ہی سے مخدوش فرقہ وارانہ فضا مزید دھماکہ خیز ہوجائے گی۔ خط میں آگے کہا گیا کہ ہمیںملک کی تکثیری حیثیت کو ہر حال میں بچانا ہوگا ۔










