نئی دہلی:صدر کے خطاب پر آج لوک سبھا میں بحث ہو رہی ہے۔ اس دوران اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے بحث کا آغاز کیا اور آئین کے بہانے مودی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز ہاتھ میں آئین کی کاپی لے کر کیا۔ اس دوران راہل گاندھی نے ایسا بیان دیا جس نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ اس پر پی ایم مودی نے کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور کہا کہ پورے ہندو سماج کو پرتشدد کہنا ایک سنگین معاملہ ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، ‘مودی جی نے ایک دن اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہندوستان نے کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا۔ اس کی ایک وجہ ہے۔ ہندوستان عدم تشدد کا ملک ہے، ڈرنے والا نہیں۔ ہمارے عظیم آدمیوں نے یہ پیغام دیا تھا – مت ڈرو، مت ڈرو۔ شیو جی کہتے ہیں- ڈرو نہیں، مت ڈرو اور ترشول کو زمین میں گاڑ دو۔ دوسری طرف، جو لوگ خود کو ہندو کہتے ہیں، وہ 24 گھنٹے تشدد، تشدد، تشدد…نفرت،نفرت،نفرت میں ملوث رہتے ہیں…آپ بالکل ہندو نہیں ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس ہی ہندو کے ٹھیکیدار نہیں ہندو مذہب میں صاف لکھا ہے کہ سچ کا ساتھ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی کے بیان پر حکمراں جماعت کے ارکان نے ہنگامہ شروع کردیا۔ پی ایم مودی اپنی کرسی سے کھڑے ہوئے اور اسے ایک سنگین معاملہ قرار دیا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ پورے ہندو سماج کو پرتشدد کہنا ایک سنگین معاملہ ہے۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ پی ایم مودی اور بی جے پی پورا ہندو سماج نہیں ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو اپنی بات پر معافی مانگنی چاہئے۔ کروڑوں لوگ فخر سے اس مذہب کو ہندو کہتے ہیں۔ میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اسلام میں ابھایہ مدرا پر اسلامی اسکالرز کی رائے لیں۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے اعتراض ظاہر کیا اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ شاہ نے کہا کہ راہل یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ملک میں کروڑوں ہندو متشدد ہیں؟ شاہ نے مزید سوال کیا کہ کیا قائد حزب اختلاف معافی مانگیں گے؟ تشدد کو کسی بھی مذہب سے جوڑنا غلط ہے۔ امیت شاہ نے مزید کہا کہ راہل کو ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔









