اردو
हिन्दी
جون 6, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

الیکٹورل بانڈ کیا ہے،سپریم کورٹ نے کیوں رد کیا ؟فیصلے کی کچھ خاص باتیں

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
489
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

سپریم کورٹ نے جمعرات 15 فروری کو الیکٹورل بانڈ سکیم کو منسوخ کر دیا۔ فیصلہ سناتے ہوئے، چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی پانچ ججوں کی بنچ نے اسے غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ یہ اسکیم معلومات کے حق (آر ٹی آئی) کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ اسے 2018 میں متعارف کرایا گیا تھا تاکہ سیاسی جماعتوں کو دیے جانے والے نقد عطیات کی جگہ سیاسی فنڈنگ میں شفافیت لائی جا سکے۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ انتخابی بانڈ کیا ہے اور اسے سپریم کورٹ نے کیوں منسوخ کیا؟
انتخابی بانڈ کیا ہے؟
الیکٹورل بانڈزعطیہ  دینے کا ایک ایسا ذریعہ  ہے جو افراد اور کمپنیوں کو اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر سیاسی جماعتوں کو مالی امداد دینے کی اجازت دیتا ہے۔ اس اسکیم کو اس وقت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے سال 2017 میں بجٹ اجلاس میں پیش کیا تھا۔ مرکزی حکومت نے اسے 9 جنوری 2018 کو نافذ کیا۔
آپ انتخابی بانڈز کے ذریعے ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت کو چندہ دے سکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو بانڈز خریدنا ہوں گے۔
آپ یہ بانڈ صرف سرکاری بینک – اسٹیٹ بینک آف انڈیا یعنی ایس بی آئی سے خرید سکتے ہیں۔ آپ کو کسی دوسرے بینک سے انتخابی بانڈ نہیں ملیں گے۔
الیکٹورل بانڈ میں یہ سہولت بھی ملتی ہے کہ کس نے چندہ دیا، کس پارٹی کو اور کتنا عطیہ دیا، یہ سب خفیہ ہے۔ پارٹی کو بھی نہیں معلوم کہ اسے کس نے چندہ دیا ہے۔ ہاں لیکن SBI اس سے واقف ہے۔ الیکشن کمیشن یا عام عوام یہ نہیں جان سکتے کہ کس پارٹی نے کتنا چندہ دیا ہے۔
نیز، یہ بانڈ ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتا ہے، اور نہ ہی اس پر کوئی سود ادا کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی اپوزیشن پارٹی کو بہت زیادہ چندہ دیتا ہے تو حکمراں جماعت اسے ہراساں کر سکتی ہے اور اس کے برعکس، اسی لیے عطیہ دہندگان کی معلومات کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انتخابی بانڈز کیسے خریدے جاتے ہیں؟
فرض کریں کہ آپ کسی سیاسی جماعت کو 10,000 روپے عطیہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے آپ SBI کی کسی بھی برانچ میں جائیں گے اور بتائیں گے کہ آپ کسی خاص پارٹی کو 10,000 روپے کا عطیہ دینا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کو 10،000 روپے بینک میں جمع کروانے ہوں گے اور اس کے بدلے میں آپ کو 10،000 روپے کا بانڈ ملے گا۔
سیاسی جماعت کو یہ بانڈ ملے گا۔ اب پارٹی کے پاس اس بانڈ کو چھڑانے کے لیے صرف 15 دن ہوں گے۔اگر پارٹی 15 دنوں کے اندر بانڈ کو چھڑا لیتی ہے، تو بینک میں جمع کردہ آپ کی رقم میں سے 10,000 روپے اس پارٹی کے اکاؤنٹ میں چلے جائیں گے۔ اگر پارٹی 15 دنوں کے اندر بانڈ کو نہیں چھڑاتی ہے، تو آپ کی جمع کی گئی رقم وزیر اعظم کے ریلیف فنڈ میں عطیہ کر دی جائے گی۔
انتخابی بانڈز کیسے جاری کیے جاتے ہیں؟
آپ کسی بھی پارٹی کو اپنی مرضی کے مطابق رقم نہیں دے سکتے۔ انتخابی بانڈ کے تحت عطیہ کی رقم مقرر ہے۔ یہ بانڈز:
1000، 10,000، 1,00,000، 10,00,000 اور ایک کروڑ۔
اگر آپ چاہیں تو ایک سے زیادہ بانڈ خرید سکتے ہیں۔
کون سی سیاسی جماعت چندہ وصول کر سکتی ہے؟
ملک میں ہرکوئی سیاسی جماعت چندہ وصول نہیں کر سکتی۔ صرف وہی پارٹیاں انتخابی بانڈز کے ذریعے عطیہ حاصل کرسکتی ہیں جو عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت رجسٹرڈ ہیں اور اس پارٹی کو لوک سبھا یا اسمبلی انتخابات میں کم از کم 1% ووٹ ملے ہیں۔
جب کانگریس نے پارلیمنٹ میں پوچھا کہ اب تک کتنے انتخابی بانڈ جاری کیے گئے ہیں، حکمراں جماعت نے 5 فروری 2024 کو جواب دیا کہ کل 16 ہزار 518 کروڑ روپے کے انتخابی بانڈ جاری کیے گئے ہیں۔ بی جے پی کو ان میں سے 50 فیصد سے زیادہ بانڈ ملے ہیں۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا؟
الیکٹورل بانڈ اسکیم کے نافذ ہوتے ہی اس کے خلاف عدالت میں کئی درخواستیں دائر کی گئیں۔درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون سیاسی جماعتوں کو کتنا چندہ دے رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو کمپنی خسارے میں ہے وہ بھی چندہ دے سکتی ہے، ایسا کیوں ہے؟ کمپنی کے شیئر ہولڈرز کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی کمپنی کس پارٹی کو چندہ دے رہی ہے۔
اس پر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ "الیکٹورل بانڈ اسکیم آرٹیکل 19 (1) (A) یعنی آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہے اور غیر آئینی ہے۔ اور اسے جاری کرنے والے بینک کو فوری طور پر انتخابی بانڈز کا اجرا روک دینا چاہیے”۔
عدالت نے ایس بی آئی کو حکم دیا کہ وہ انتخابی بانڈز سے متعلق تمام معلومات جو بینک کے پاس ہے وہ 6 مارچ تک الیکشن کمیشن کو دے، جس کے بعد الیکشن کمیشن اسے پبلک کرے۔
"سیاسی جماعتوں کو مالی امداد دینا انتقامی کارروائی کا باعث بن سکتا ہے۔ انتخابی بانڈ سکیم کالے دھن کو روکنے کی واحد سکیم نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی آپشنز ہیں۔”
سپریم کورٹ

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر
خبریں

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

22 اپریل
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے
خبریں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

21 اپریل
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ
خبریں

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

21 اپریل
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN