نئی دہلی:(ایجنسی)
انتخابی پالیسی ساز پرشانت کشور کے جلد ہی کانگریس میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع نے گزشتہ کل یہ اطلاع دی۔ جلد ہی اس پر سونیا گاندھی سے ملاقات میں فیصلہ کیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات میں، پرشانت کشور نے کانگریس کے لیے بحالی کامنصوبے اور ریاستوں کے ساتھ ساتھ آئندہ لوک سبھا انتخابات جیتنے کی حکمت عملی پیش کی تھی۔ اس پریزنٹیشن کو کانگریس کے چنندہ لیڈروں کو دکھایا گیا اور اس کے ساتھ ہی پرشانت کشور سے اس پلان پر کانگریس میں شامل ہونے پر رائے مانگی گئی تھی۔
اگرچہ پرشانت کشور کے کانگریس 2.0 پلان کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے، لیکن این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس پلان سے متعلق معلومات ملی ہیں جو پرشانت کشور نے گزشتہ سال گاندھی خاندان کے سامنے رکھی تھی۔ پلان میں کہا گیا ہے، ’یہ 2024 میں بھارت جیتنے کے بارے میں ہے۔‘ اس کے ساتھ 1984 سے 2019 تک پارٹی کے زوال کی وجہ بھی بتائی گئی ہے۔ ان میں وراثت اور کامیابیوں سے فائدہ اٹھانے میں ناکامی، ساختی کمزوریاں اور عوام کےجڑرہنے کی کمی شامل ہے ۔ پرشانت کشور کے منصوبے کے مطابق، قیادت کو پارٹی کی از سر نو تعمیر اور اسے جمہوری بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ‘کانگریس کو پھر سے بحال کیا جاسکے۔
اس میں سونیا گاندھی کو کانگریس کے صدرکے طور پر، ’غیر گاندھی‘ ورکنگ صدر یا نائب صدر اور راہل گاندھی کو پارلیمانی بورڈ کا سربراہ بنایا جانا بھی تجویز کی گئی۔ اس میں کہا گیا:’ایک غیر گاندھی ورکنگ صدر؍نائب صدر کی ضرورت ہے جو کانگریس قیادت کی ہدایت کے مطابق زمین پر مؤثر طریقے سے کام کر سکے۔‘ اس میں کہا گیا ہے، یہ پانچ اسٹریٹجک فیصلوں میں سے پہلا فیصلہ ہے جو کانگریس کو لینا ہے۔ اس کے علاوہ اتحادوں کو حل کرنا، پارٹی کے بانی اصولوں پر دوبارہ چلنا ، زمینی سطح کے لیڈروں اور ’میڈیا اور ڈیجٹیل تشہیر کی حمایت ‘ کاایک ایکو سسٹم کی تجویز بھی شامل ہے ۔
کانگریس 2.0 کے لیے پی کے پلان سے متعلق اہم معلومات
- لوگوں کے لیے ایک نئی کانگریس کی تشکیل۔
- اس کی اقدار اور بنیادی اصولوں کی حفاظت کر نا ۔
- چاپلوسی کے احساس کو ختم کرنا۔
- اتحاد کے مسائل کو حل کرنا۔
- مروجہ خاندان پرستی کا مقابلہ کرنے کے لیے ’ایک خاندان، ایک ٹکٹ‘
- تمام سطحوں پر انتخابات کے ذریعے تنظیمی اداروں کی تنظیم نو
- کانگریس صدر اور کانگریس ورکنگ کمیٹی سمیت تمام عہدوں کے لیے مقررہ مدت
15,000 نچلی سطح کے رہنماؤں کی شناخت کریں اور ان کو شامل کریں۔ اس کے علاوہ ایک کروڑ سے زیادہ کارکنوں کو تیار کیا جائے۔
200 سے زیادہ ہم خیال افراد، کارکنوں اور سول سوسائٹی کے اراکین کی ایک فیڈریشن تشکیل دیں۔










