اردو
हिन्दी
اگست 17, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کون ہیں برکینا فاسو کے صدر ابراہیم ٹریری (تراورے)،کیوں ہورہی ہے اتنی چرچا؟

1 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
278
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

چھوٹے سے افریقی ملک  برکینا فاسو کے ابراہیم ٹریری یا تراورے  (پیدائش: 14 مارچ 1988ء)حالیہ برسوں میں افریقی سیاست میں ایک ابھرتا ہوا اور متنازعہ چہرہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ وہ مغربی افریقہ کے ملک برکینا فاسو (Burkina Faso) کے فوجی افسر اور عبوری صدر ہیں، اور 2022 میں فوجی بغاوت کے بعد اقتدار میں آئے۔عمر کے اعتبار سے وہ اس وقت دنیا کے دوسرے سب سے کم عمر سربراہِ ریاست ہیںـ  ان کا نام پورے افریقہ میں خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان مقبول ہو رہا ہے، جہاں وہ ایک "نوجوان انقلابی رہنما” اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف علم بردار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔اپنے دورِ صدارت میں ابراہیم نے برکینا فاسو کو اس کے سابق نو آبادیاتی قابض فرانس سے دور کرنے کی کوشش کی ہے اور انھوں نے ساحلی ریاستوں کے اتحاد (Alliance of Sahel States) کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے
برکینا فاسو:برکینا فاسو ایک زمینی گھرا ہوا افریقی ملک ہے جو ساحل کے خطے میں واقع ہے، جہاں حالیہ برسوں میں شدت پسند اسلامی گروپوں، قبائلی کشمکش، اور فرانسیسی اثر و رسوخ کے خلاف عوامی بغاوتیں زور پکڑتی رہی ہیں۔ابراہیم ٹریری کا تعلق اسی خطے سے ہے۔ وہ ایک نوجوان آرمی آفیسر کے طور پر ابھرے اور بعد میں سیاست میں قدم رکھا۔
ابراہیم ٹریری کی شخصیت و خصوصیات
1. نوجوان قیادت: ٹریری 1988 میں پیدا ہوئے، یعنی وہ اقتدار سنبھالتے وقت صرف 34 سال کے تھے، جو انہیں دنیا کے سب سے کم عمر سربراہانِ ریاست میں شامل کرتا ہے۔
2. فوجی پس منظر: انہوں نے فوجی تعلیم حاصل کی اور مختلف مشنوں میں خدمات انجام دیں، جن میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
3. نوآبادیاتی نظام کے خلاف: وہ کھل کر فرانس اور مغربی طاقتوں کی مداخلت کے خلاف بات کرتے ہیں، اور ان کی حکومت نے فرانس سے تعلقات محدود کیے اور روس و دیگر غیر مغربی ممالک سے قربت بڑھائی۔
4. افریقی اتحاد کے داعی: وہ اکثر افریقی اتحاد، خودمختاری اور استعماری زنجیروں کو توڑنے کی بات کرتے ہیں، اس لیے بہت سے لوگ انہیں افریقی چی گویرا یا تھامس سانکارا کا جانشین قرار دیتے ہیں۔
سیاست اور موجودہ حکمرانی
ٹریری نے ستمبر 2022 میں ایک بغاوت کے ذریعے برکینا فاسو کے سابق عبوری صدر پال ہنری سانداوگو کو ہٹا کر اقتدار سنبھالا۔ ان کی حکومت عبوری (transitional) کہلاتی ہے اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ 2024 یا 2025 تک انتخابات کروائیں گے۔ان کی حکومت نے فرانس کے فوجی اڈے بند کر دیے، فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا، اور روس کے ساتھ سیکورٹی تعاون بڑھایا۔ اس حکمت عملی کے پیچھے ان کا مقصد برکینا فاسو کو خودمختار اور مغربی اثر سے آزاد کرنا ہے۔
ابراہیم کی اتنی چرچا کیوں ہے؟
ابراہیم ٹریری عالمی میڈیا، سوشل میڈیا اور افریقی یوتھ حلقوں میں بہت مقبول ہیں۔ ان کی تقاریر، لباس (فوجی وردی میں عوام سے خطاب)، اور فرانسیسی نوآبادیاتی نظام کے خلاف بیانات، انہیں ایک کرشماتی رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں۔دوسری طرف، مغربی طاقتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان پر جمہوریت کو محدود کرنے، میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانے اور روسی مفادات کو بڑھاوا دینے کا الزام لگاتی ہیں۔ابراہیم ٹریری کا سیاسی مستقبل بہت حد تک برکینا فاسو کے داخلی امن، معیشت، اور بین الاقوامی تعلقات پر منحصر ہے۔ اگر وہ:••ملک میں سیکیورٹی بہتر کرتے ہیں،عوامی خدمات کو مضبوط کرتے ہیں،اور جمہوری عمل کو آگے بڑھاتے ہیں،تو وہ نہ صرف برکینا فاسو بلکہ پورے افریقہ کے لیے ایک امید کی کرن بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صرف طاقت کے ذریعے حکومت کو جاری رکھتے ہیں، تو وہ بھی دیگر فوجی آمروں کی طرح تاریخ کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ابراہیم ٹریری ایک غیر معمولی اور متحرک افریقی رہنما ہیں، جو نوآبادیاتی نظام، کرپشن، اور بیرونی مداخلت کے خلاف علم بلند کیے ہوئے ہیں۔ ان کی قیادت جہاں ایک نئی امید پیدا کر رہی ہے، وہیں کئی خطرات اور چیلنجز بھی ان کے سامنے موجود ہیں۔ ان کی کامیابی یا ناکامی، افریقی سیاست کا رخ طے کر سکتی ہے۔

ٹیگ: Burkina FasodiscussionfamousPresident Ibrahim Tariri

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN