تحریر: اے رحمن ایڈوکیٹ
بڑی افسوسناک بات ہے کہ ہمارے یہاں کسی بھی شخص کو طنزیہ لہجے یا تضحیک کے طور پر طرم خاں کہہ دیا جاتا ہے ، بلکہ پورا محاورہ ہی (کہاں کے طرم خاں ہو ! ) ایک اہانت آمیز اظہار کی شکل اختیار کر گیا ہے ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ طرم خاں حیدر آباد دکن کا ایک بہادر باغی سپاہی تھا جس نے ۱۸۵۷ کی جنگ میں انگریزوں کے خلاف کئی معرکہ آرائیاں کیں اور بڑی بہادری سے شہید ہوا۔ اس کا اصل نام طورہ باز خاں تھا (طورہ یا تورہ پشتو میں تلوار کو کہتے ہیں۔ طورہ خاں کا مطلب ہوا شمشیر زن (میری معلومات کے مطابق افغانستان میں یہ نام اب بھی رائج ہے) ۱۸۵۷ کی تحریک آزادی میں نواب حیدر آباد انگریزوں کا حمایتی تھا ( ۱۸۰۰ میں نظام نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے اتحاد کا معاہدہ کیا تھا) لہذا اس کی فوج کے بیشتر سپاہیوں نے بغاوت کر دی جن کی سربراہی طورہ خاں کر رہا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ نظام نے اپنی فوج کے ایک رسالے کو انگریزوں کے خلاف بغاوت کو کچلنے کے لیے بلڈھانہ سے دہلی جانے کا حکم دیا تو رسالے کے جمعدار چھیدا خان نے حکم عدولی کرتے ہوئے اپنے پندرہ بیس ساتھیوں کے ہمراہ حیدر آباد پہنچ کر نظام کو انگریزوں کا ساتھ نہ دینے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی مگر حیدر آباد پہنچتے ہی نظام کے وزیر تراب خاں نے ان سب کو گرفتار کر کے انگریز ریزیڈینٹ کے سامنے پیش کر دیا ۔ جب یہ خبر پھیلی تو طورے باز خاں نے اپنے پانچ چھ ہزار ساتھیوں سمیت برٹش ریزیڈینسی پر حملہ کر دیا۔ لیکن انگریزوں کو اس حملے کی اطلاع ہو گئی تھی اور وہ جوابی اقدام کے لیے پوری طرح تیار تھے۔ تمام رات مقابلہ ہوا لیکن باغی اپنے ہلکے اور ناکافی ہتھیاروں کے سبب پسپا ہو گئے۔ طورے باز خاں اس نیت سے فرار ہو گیا کہ وہ بعد کو زیادہ بہتر تیاری سے حملہ آور ہو گا۔ کچھ عرصے بعد تراب علی خاں کو مخبری ہوئی کہ طورے باز خاں بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے اس واسطے ایک خطیر انعام کا اعلان کر کے طورے باز خاں کی گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا۔ طورے باز بھیس بدل کر رہتا تھا لیکن اس کی ایک پیدائشی شناخت تھی کہ اس کی دائیں آنکھ کے نیچے بڑا سا مسّہ تھا جس کے سبب نطام کے کھوجیوں نے ایک جنگل سے اسے ڈھونڈھ نکالا۔ وہ گرفتار ہوا اور اس پر مقدمہ چلا کر اسے تا حیات کالے پانی کی سزا دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ گرفتاری کے بعد اس کو بے انتہا ایذائیں دے کر مولوی اللہ دین اور دیگر باغیوں کے ٹھکانے دریافت کئے گئے لیکن اس نے کوئی راز نہ اگلا۔ سزا سنائے جانے کے بعد کالا پانی بھیجے جانے سے پہلے ۱۸ جنوری ۱۸۵۷ کو وہ جیل سے فرار ہو گیا۔ انگریزوں نے اس کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر پانچ ہزار روپے کے انعام کا اعلان کر دیا جو آج کے پانچ کروڑ سے زیادہ بنتے ہیں لہذا نظام کے فوجی بڑی مستعدی سے چاروں طرف پھیل گئے اور آخرش ۲۴ جنوری کو مرزا قربان علی تعلقدار نے ایک فوجی دستے کی قیادت کرتے ہوئے توپران کے جنگل میں طورہ باز خاں کو ڈھونڈ نکالا اور وہیں قتل کر دیا۔ اس کی لاش کو شہر میں لایا گیا اور برہنہ کر کے برٹش ریزیڈینسی کے سامنے درخت سے لٹکا دیا گیا۔ برسوں عوام میں اس کی بہادری کے چرچے رہے اور اس کا نام کثرت استعمال سے پہلے طرے باز خاں پھر طرم باز خاں اور آخر میں صرف طرم خاں رہ گیا۔ حیدر آباد میں جس جگہ برٹش ریزیڈینسی تھی وہاں طورہ باز خاں اور دیگر شہیدوں کی یاد گار آج بھی موجود ہے-









