(روزنامہ خبریں کی خاص رپورٹ)
ہندوستانی مسلمانوں کے سب سے باوقار،معتبر اور بھروسہ مند اجتماعی پلیٹ فارم مسلم پرسنل لا بورڈ میں نیے صدرکا انتخاب اندوراجلاس میں کیا جاۓ گا جو تین جون سے ہورہا ہے ۔،اس اجلاس پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں ،بورڈ کی روایت رہی ہے کہ صدر عموماً تاحیات ہوتا ہے مولانا رابع حسنی ندوی مرحوم 2002سے 2023تک صدر رہے ،ان کا سب سے طویل دور رہا ہے –
بورڈ کو ایسے شخص کی تلاش ہوگی جو تمام فقہی مکاتب فکر کے لیے قابل قبول ہو ،اور سب کو ساتھ لے کر چلے ،بورڈ کے اندرونی ذرائع کے مطابق اس بات کی کوشش کی جاۓ گی کہ حسب روایت اتفاق راۓ سے تمام فیصلے کیے جائیں۔
‘روزنامہ خبریں’ کے ذرائع کے مطابق بورڈ کے صدر کے لیے کئی نام سوشل میڈیا اور سنجیدہ حلقوں میں زیربحث ہیں, دعویٰ ہے کہ ان میں سے ہی کوئی صدر ہوگا خاص طور سے چار نام سامنے آۓ ہیں، مولانا ارشدمدنی،مولانا سجادنعمانی،مفتی ابوالقاسم نعمانی اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ۔جہاں تک مولانا نعمانی کا سوال ہے وہ مسلم نوجوانوں کے ایک طبقہ میں بہت مقبول ہیں،جراتمند ہیں ۔نازک مسائل پر بولنے سے نہیں ہچکچاتے ۔بہترین خطیب ہیں ،سیاسی معاملہ میں اپنی راے کھل کر رکھتے ہیں۔بورڈ کے ترجمان رہ چکے ہیں منجملہ خوبیوں کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ بسااوقات متنازع بیانات ان کے پاؤں کی زنجیر بن جاتے ہیں ان کے مختلف پارٹیوں کے لیڈروں سے اچھے تعلقات ہیں ۔حال ہی میں نیوزپورٹل muslim mirror نے ٹوئٹر پر سروے کرایا تھا جس میں 71فیصد نے ان کے حق میں راۓ دی۔
جمعیت علمائے ہند کے صدر،معروف بزرگ رہنما مولانا ارشد مدنی گراں قدر شخصیت ہیں انکا وقارو احترام ہے،بہت جراتمندی سے گفتگو کرتے ہیں سیاسی مصلحتیں چھوکر بھی نہیں گزرتیں ،جب بولتے ہیں تو خبر بنتی ہے۔مین اسٹریم میڈیا ان کے پیانوں کو اچھال کر ٹی آرپی بناتاہے ۔وہ دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین ہیں ،ملک ہی نہیں بیرونملک بھی مولانا کو قدرواحترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔۔ذرائع کے مطابق وہ کبر سنی کی وجہ سے خود بھی مزید کوئی ذمہ داری نہیں لینا چاہتے یہ بھی معلوم ہوا کہ مولانا ناسازی طبع کے سبب اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے,ایک خبر یہ بھی ہے کہ مولانا نے خود کو اس معاملہ سے الگ کرلیا ہے۔
تیسرا نام دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی کا ہے۔شریف النفس،خاموش طبع،کم گو،اور خود کو ریزرو رکھنے والے ،تنازعات سے دور رہتے ہیں ،ناپ تول کر بولتے ہیں ،اس سے قبل قاری طیب صاحب بھی صدر رہ چکے ہیں ،کیا وہ بورڈ کے ارکان کی پسند پن سکیں گے یہ تین جون کو پتہ چلے گا
چوتھا نام مولانا خالدسیف اللہ رحمانی کا ہے جو بورڈ کے جنرل سکریٹری ہیں.وہ بھی مزاجا کم گو ہیں ،علمی شخصیت ہیں ،ان کے حلقہ بگوش فقیہہ العصر کہتے ہیں،بتایا یہ جارہا ہے کہ ان کے نام پر بعض تحفظات کے ساتھ غور کیا جاسکتا ہے ،بلکہ کوئی تعجب نہیں کہ وہی صدر منتخب کرلیے جاییں۔ مصلحت پسندی ا ور احتیاط کو بورڈ کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے تاکہ وہ بلاؤں اور آزمائشوں سے دور رہے ۔آتش نمرود میں بے خطر کودجانے والے اچھے تو لگتے ہیں مگر قابل قبول نہیں ہوتے وہ اس ۱معیار مطلوب پر پورا اترتے ہیں مولانا رحمانی مزاحمت پسند نہیں، ذرائع کی مانیں تو مولانا رحمانی ہی صدر ہوں گے ۔ذرائع کی خبر کتنی درست ہے یہ تین جون دیر رات یا چارجون تک پتہ چل جاۓ گا یہ شخصیات ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں سب کے اپنے امتیازات ہیں ۔
دریں اثنا بورڈ اپنا ترجمان بھی طے کرنا چاہے گا۔کیونکہ اس کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔حیرت ہے کہ بورڈ اس معاملہ میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں لے سکا ۔اس پر مستقل ترجمان کے لیے بہت دباؤ ہےاور اجلاس کے غیر تحریری ایجنڈے میں شامل ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس عہدے پر سینیر سرکردہ رکن ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کا انتخاب کیا جاسکتا ہے،انہیں میڈیا کو ہینڈل کرنے کا طویل تجربہ ہے اور ترجمانی کے تقاضوں سے واقف ہیں ،وہ انگریزی اردو ہندی تینوں زبانوں میں بولنے کی قدرت رکھتے ہیں مزید ماضی میں یہ کام کرچکے ہیں ،گرچہ کمال فاروقی بھی ترجمانی کے لیے زیرغور ہوسکتے ہیں مگر وہ تمام تر کمال صلاحیتوں کے ساتھ متنازع بیان دینے کے لیے بھی شہرت رکھتے ہیں۔
بہرحال جو ہو بہتر ہو ،بورڈ کے حق میں فال نیک ہو۔ مسلمانوں کے اکلوتے وفاقی پلیٹ فارم کو پہلے سے زیادہ اشتراک و اتحاد کی ضرورت ہے۔امید ہے کہ سب کچھ بخیروخوبی انجام پایے گا۔







