سلمانوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ انہیں اکثریت پسندی (میجوریٹیرین ازم) کے خطرے کی وحشت سےنکل کر اپنی کمیونٹی کی بھلائی کے لیے مجوزہ اصلاحات پر غور کرنا چاہیے۔ آخر کب تک وہ اس بھوت کے ڈر سے اپنے سماجی رسوم و رواج میں اصلاحات کو مؤخر کرتے رہیں گے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو ’سیزمینٹلٹی‘ سے باہر نکل کر دنیا کی طرف دیکھنا چاہیے۔ یا یہ کہ کب تک دڑبے والی ذہنیت کے شکار رہیں گے
یہ سب سن کر مجھے آج سے دس سال پہلے کے ‘انڈیا اگینسٹ کرپشن’ کی یاد آگئی ، رام لیلا میدان میں مجمع لگا رہتا تھا اور ہزاروں لوگ ہندوستان میں انقلاب کی امیدلیے انا ہزارے کو دیکھنے جایا کرتے تھے۔ اس وقت ان لوگوں پر لعنت بھیجی جا رہی تھی جو اس بھیڑ کا حصہ بننے سے انکار کر رہے تھے۔
ایک دوست نے کہا کہ وہاں لگنے والےنعرے، اس جگہ کا پورا ماحول نامعقول ہے، بالخصوص مسلمانوں کے لیے۔ اس پر ایک اور دوست نے کہا کہ کیا صرف اس وجہ سےوہ اس عظیم تحریک میں حصہ نہیں لیں گے کہ اس میں تھوڑی سی اکثریت پسندی کی ہے۔ کیا یہ ان کی تنگ نظری نہیں؟ کیا وہ اپنی دڑبے والی ذہنیت سے باہر نکل کر وسیع تر قومی مفاد میں شامل نہیں ہو سکتے؟
یہ سن کر مجھے جئے پرکاش کی تحریک یاد آگئی، اس تحریک میں جو نعرے مقبول تھے، ان میں ایک یہ تھا کہ ‘گائے ہماری ماتا ہے، عبدالغفور اس کو کھاتا ہے۔’ اس تحریک میں مسلمان بھی بڑی تعداد میں شامل ہوئے تھے۔ جئے پرکاش جی کے ساتھیوں میں سے کسی نے ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی، لیکن انہوں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ یہ نعرہ لگاتار بلند ہوتا رہا۔ آخر ایک بڑا مقصد تھا، اب اس مقصد کے لیے کیا مسلمان اس نعرے کو برداشت نہیں کر یکھتے ہوئے ،اور اس کے دباؤ کو محسوس کرتے ہوئے بھی مسلمانوں نے اس میں حصہ لیا۔
رام منوہر لوہیا ہوں یا جئے پرکاش یا وشوناتھ پرتاپ سنگھ، مسلمانوں نے سب کا ساتھ دیا۔ یہ جانتے ہوئے کہ وہ سب اکثریت پسند جن سنگھ یا بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت لے رہے ہیں۔ لیکن بڑے قومی مقصد کو مدنظر مسلمانوں نے ان سے پرہیز نہیں کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے پرجوش طریقے سے اروند کیجریوال کاساتھ دیا۔ اس کا نتیجہ سامنے ہے۔
اکثریت پسندی نہ اس وقت خیالی تصور تھا اور نہ اب ہے۔ ایک حقیقی تصور تھا، ہے اور اس کا خطرہ بھی حقیقی ہے۔ پہلے وہ معاون کے رول میں تھے، اب ان کا غلبہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ سیکولر سیاست کواکثریت پسندوں کا ساتھ لینے میں کبھی کوئی ہچکچاہٹ کیوں نہیں ہوئی ؟ کیوں بار بار وہ مسلمانوں کو کہتے رہے کہ انہیں اپنی ہچکچاہٹ چھوڑ کر وسیع تر قومی مفاد میں ان کا ساتھ دینا چاہیے؟ پچھلی صدی کی ساٹھ کی دہائی میں کانٹریکٹ حکومتوں کا معاملہ ہو یا 1977 میں جنتا پارٹی کا، یہی دلیل دی گئی۔ یہی بات 2013 میں کہی گئی۔
کسی ہندو کو وندے ماترم گانے یا جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ کسی ہندو کو گوشت کھانے اور گھر میں پکانے پر مار نہیں ڈالا جاتا۔ ایک ہندو شخص کو مسلمان لڑکی سے شادی کرنے پر گرفتار نہیں کیا جاتا۔ کسی ہندو کا گھر بلڈوزر سے نہیں گرایا جاتا۔
اس لیےاکثریت پسندی کے ہوتے ہوئے اس کا جو مطلب مسلمانوں کے لیےہے، وہ ہندوؤں کے لیے نہیں ہے اور وہ اس کی ہولناکی کو کبھی محسوس نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر، دہلی یونیورسٹی کی صد سالہ تقریبات میں جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر ہندوؤں کو اچھا بھلے نہ لگے، لیکن وہ خوف محسوس نہیں ہوگا جو مسلمانوں کو محسوس ہوگا کیونکہ انہیں یاد ہے کہ ان پر حملہ کرنے کے دوران یہی نعرہ لگایاجاتا ہے۔
یہ کہنے والے بھلے لوگ بھی ملتے ہیں کہ مسلمانوں کو ‘دڑبے والی ذہنیت یا ‘سیز مینٹلٹی’ سے آزاد ہونا چاہیے۔ یہ عجیب و غریب مطالبہ ہے۔ مسلمانوں کو ملی جلی ، کھلی جگہ میں کبھی مکان نہیں ملے گا، وہ آزادی سے نماز بھی نہیں پڑھ سکتے، انہیں ہر جگہ شہر کے کونے میں دھکیل کر ایک دڑبے میں بند کر دیا جائے گا لیکن ان سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ دڑبے والی ذہنیت کے شکار نہ ہوں۔
’سیز مینٹیلٹی‘ سے متاثرمسلمان نہیں بلکہ ہندو ہیں۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ وہ گھیرلیے گئے ہیں اور انہیں اپنے اردگرد کے خطرے سے ہوشیار رہنا چاہیے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کی شکل میں ان کے درمیان ہے۔ بنگلہ دیشی روہنگیا ان کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ مسلمان ان کی لڑکیوں کو ورغلا رہے ہیں،پڑھ لکھ کر ان کی نوکریاں ہتھیا رہے ہیں۔ انہیں ہمہ وقت جاگنے کو کہا جا رہا ہے، انہیں اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھنے کو کہا جا رہا ہے۔ تو ‘سیز مینٹیلٹی ‘کس کی ہے اور کس کو اس سے آزاد ہونے کی ضرورت ہے؟
یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں







