اقوام متحدہ میں اب تک 140 ممالک فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے والوں میں 22 ممالک پر مشتمل عرب لیگ، 57 ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم اور 120 ممالک پر مشتمل نان الائنڈ موومنٹ بھی شامل ہے۔
حالیہ دنوں میں آسٹریلیا نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کے دو ریاستی حل کے عمل کو تیز کرنے کے لیے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر سکتا ہے۔
دنیا میں کچھ ممالک فلسطین بطور ریاست اس لیے تسلیم نہیں کرتے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل سے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا۔
لندن سکول آف اکنامکس سے منسلک پروفیسر فواذ جرجس کہتے ہیں کہ ’امریکہ زبانی یہ بات اکثر کرتا ہے کہ فلسطین کو ایک ریاست بنانے کی ضرورت ہے لیکن اس کا یہ اصرار بھی ہے کہ اس معاملے پر اسرائیل اور فلسطین براہ راست بات چیت کریں، جس کا مطلب یہی ہے کہ فلسطین کی آزادی کی امیدوں پر اسرائیل کو ویٹو پاور دی جا رہی ہے۔‘
فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات 1990 کی دہائی میں شروع ہوئے تھے اور اس کے نتیجے میں اس مسئلے کا دو ریاستی حل تجویز کیا گیا تھا۔
تاہم امن مذاکرات کا عمل 2000 کی دہائی میں سُست روی کا شکار ہوگیا اور پھر 2014 میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والی بات چیت واشنگٹن میں ناکام ہوگئی۔
وہ ممالک جو اسرائیل سے خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی صورت میں اسرائیل ناراض ہوجائے گا۔
اسرائیل کی حامی ممالک کا کہنا ہے کہ فلسطین 1933 میں طے کیے گئے مونٹیویڈیو کنوینشن پر پورا نہیں اُترتا جس کے تحت کسی بھی قوم کو ایک ملک تسلیم کیا جاتا ہے۔ یعنی کہ اس کی مستقل آبادی، زمین کے تعین، حکومت اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بنانے کی صلاحیتیں ابھی تک غیر واضح ہیں۔
فلسطینی علاقوں کی اقوامِ متحدہ میں کیا حیثیت ہے؟
اقوامِ متحدہ میں فلسطین کی حیثیت ایک غیر رُکنی مشاہدہ کار کی ہے۔ سنہ 2011 میں فلسطین نے اقوامِ متحدہ کا مستقل رُکن بننے کے لیے قرار داد جمع کروائی تھی لیکن ان کی اس درخواست کو سلامتی کونسل میں حمایت حاصل نہ ہو سکی۔تاہم فلسطین اب بھی اقوام متحدہ میں ہونے والے بحث و مباحثوں میں حصہ لے سکتا ہے، تاہم اسے قراردادوں پر ووٹ دینے کی اجازت نہیں۔
سنہ 2012 میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو بطور ’غیر رکنی مشاہدہ کار ریاست‘ قبول کیا تھا اور غزہ اور غربِ اردن میں اس فیصلے کو سراہا بھی گیا تھا۔ تاہم اسرائیل اور امریکہ اقوام متحدہ کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے نظر آئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے اس فیصلے کے بعد فلسطین کو متعدد بین الاقوامی تنظیموں کا رُکن بننے کی اجازت بھی مل گئی تھی۔
واشنگٹن میں مِڈل ایسٹ انسٹٹیوٹ سے منسلک تجزیہ کار خالد الجندی کہتے ہیں کہ ’اقوامِ متحدہ کا مستقل رُکن بننے کی صورت میں فلسطینیوں کی سفارتی طاقت بڑھ جائے گی اور وہ وہاں قرادادیں پیش کرنے اور ان پر ووٹ دینے کے بھی قابل ہوجائیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن ان تمام چیزوں سے بھی فلسطین اور اسرائیل کے معاملے کا دو ریاستی حل نہیں نکلے گا، یہ حل صرف اسرائیل کا قبضہ ختم کروانے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔‘
لندن میں سکول آف اورینٹل اینڈ افریکن سٹڈیز سے منسلک پروفیسر گلبرٹ اچکار کہتے ہیں کہ فلسطینی انتظامیہ کو اقوامِ متحدہ کی مستقل رُکنیت حاصل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ’یہ صرف ایک علامتی فتح ہوگی۔‘









