اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مغربی تہذیب کی مخالفت کرنے والے مسکان کو بے حجاب کیوں کررہے ہیں؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
مغربی تہذیب کی مخالفت کرنے والے مسکان کو بے حجاب کیوں کررہے ہیں؟
201
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: کلیم الحفیظ-نئی دہلی

ملک میں سکون سے تو شاید کوئی نہیں لیکن مسلمانوں کو ہر نئے دن کا سورج نیا زخم دے جاتا ہے۔ہمارے جسم پر اتنے زخم لگائے گئے ہیں کہ پورا جسم چھلنی ہوگیا ہے۔اس وقت نیا زخم حجاب کو لے کر ہے۔کرناٹک کے ایک کالج نے یونیفارم کا حوالہ دے کر مسلم لڑکیوں کو حجاب اتارنے کا حکم دے دیا۔ظاہر ہے یہ حکم آئین ہند اور شریعت کے خلاف تھا جسے ان لڑکیوں نے ماننے سے انکار کردیا۔اس کے بعد بھگوادھاریوں نے اسے ایشو بنادیا اور حجاب کے مقابلے بھگوا شال لے آئے۔رفتہ رفتہ کرناٹک کے کچھ کالجوں کا یہ ایشو پورے ملک کا ایشو بن گیا۔ایک باحجاب لڑکی مسکان کو جب چند شرارتی عناصر نے گھیرا اور جے شری رام کے نعرے لگائے تو اس نے جواب میں اللہ اکبر کے نعروں سے ان کا جواب دیا۔مسکان کا یہ ویڈیو ہر انصاف پسند شخص نے پسند کیا۔ہر طرف اس کی ہمت و جرأ ت کی پذیرائی ہورہی ہے۔حجاب تنازعہ کے کئی پہلو کھل کر سامنے آتے ہیں۔

حجاب کا تنازعہ ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب اترپردیش سمیت ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں۔زعفرانی پارٹی کو خا ص طوریوپی میں بھاری مخالفت کا سامنا ہے۔اسے حجاب کے ایشو سے کئی فائدے ہوسکتے ہیں۔ لوگوں کی توجہ حجاب پر مبذول ہوگی اور وہ الیکشن میں وکاس کی بات نہیں کریں گے۔ہندو شدت پسند ووٹ متحد ہوگا۔مسلمانوں سے نفرت کرنے والے لوگ مسلمانوں کا خوف دلائیں گے۔اڈوپی کے جس کالج میں یہ مسئلہ ہوا ہے وہاں ہمیشہ سے ہی بعض مسلم لڑکیاں حجاب پہن کر آتی رہی ہیں۔کبھی کسی کو اعتراض نہیں ہوا۔نہ کسی نے اسکول یونیفارم کا حوالہ دیا۔اچانک الیکشن کے موقع پر اس مسئلہ کو اٹھانا اور پھر آر ایس ایس کی پوری ٹیم کا لگ جانا،راتوں رات لاکھوں بھگوا شالیں مہیا ہوجانا اس بات کی دلیل ہے کہ شکست کے خوف سے فاشسٹ پارٹی نے پہلے سے ہی یہ منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان اپنی لڑکیوں کو پڑھنے نہیں بھیجتے،انھیں گھروں میں قید رکھتے ہیں،خود وزیر اعظم مسلم بہنوں کی فکر میں دبلے ہوئے جاتے ہیں،انھوں نے تین طلاق پر کیا قانون بنایا،پھولے نہیں سماتے۔اپنی ہر ریلی میں اپنی اس عظیم کامیابی کا ذکر کرنا نہیں بھولتے۔حالانکہ وہ قانون خود عدالت میں زیر سماعت ہے۔مسلم بہنوں کے خیرخواہوں نے اتر پردیش الیکشن میں جب سنکلپ پتر جاری کیا تو اس میں ہولی اور دیوالی پر مفت گیس فراہم کرنے کا وعدہ کیا،لیکن مسلم بہنوں کو طلاق سے نجات دلانے والے بھول گئے کہ اس ملک میں عید بھی آتی ہے۔آخر یہ کیسے خیر خواہ ہیں کہ مسلم بچیوں کی تعلیم میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔اس سے ان کی جھوٹی خیر خواہی بے حجاب ہوگئی ہے اور ہماری ان مسلم بہنوں کو سمجھنا چاہیے جنھوں نے طلاق کے مسئلے پرسرکار کی حمایت کی تھی اب وہی لوگ ان کی عزت نیلام کرنے پر اتر آئے ہیں۔

اسکول یونیفارم کا میں بھی قائل ہوں۔ہر جگہ اور ہر مقام کی ایک یونیفارم ہوتی ہے۔اسکول یونیفارم میں کپڑوں کا رنگ،جرسی و شال کا رنگ،جوتے اور موزے کا رنگ طے ہوتا ہے۔سر کھولنے اور سر ڈھانکنے کی آزادی ہوتی ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس دوپٹے سے سر ڈھانکا جارہا ہے اس کا رنگ یونیفارم کے مطابق ہونا چاہئے،لیکن آپ سر کھولنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔اسی طرح یونیفارم کا اطلا ق کلاس روم میں ہوتا ہے،اسکول کے گیٹ سے نہیں،ایک مسلم لڑکی اگر اپنی یونیفارم پر برقع پہن کر اسکول آتی ہے اور کلاس روم میں اپنا برقع اتارکر صرف اسکارف سے سر ڈھانک لیتی ہے تو اس میں کسی کو کیا اعتراض ہونا چاہئے۔لیکن موجودہ مرکزی حکومت نے ہمیشہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کیا ہے۔اس کی ساری سیاسست دھرم کے ارد گرد ہی گھومتی ہے۔اسکولوں میں تعلیم کا گرتا معیار،اساتذہ کی کمی،اسکولوں میں جرائم میں اضافہ جیسے موضوعات پر گفتگو کرنے کے بجائے حجاب پر سیاست کی جارہی ہے۔جس ملک میں عصمت دری کے واقعات میں روزانہ اضافہ ہورہا ہے۔اناؤ جیسے معاملات بار بار دہرائے جارہے ہیں۔وہاں اگر کوئی اپنی عصمت کی حفاظت کی خاطر حجاب پہنتا ہے تو اسے سر کھولنے پر مجبور کیوں کیا جارہا ہے۔ مغربی تہذیب کی مخالفت میں ویلنٹائن ڈے پر اظہار محبت کرنے والوں کو زدو کوب کرنے والے،لو جہاد پر انگلی اٹھانے والے،بیٹی بچاؤ کی مہم چلانے والے،فدا حسین کی ننگی تصویروں پر شور مچانے والے،سیتا کے پجاری مریم کو بے حجاب کیوں کررہے ہیں؟نام نہاد سیکولر پارٹیاں کیوں خاموش ہیں؟

جے شری رام کے مقابلے اللہ اکبر کی تکبیر مذاہب کے درمیان خلیج بڑھائے گی۔اس سے دونوں مذاہب کے درمیان عداوت اور نفرت بڑھے گی۔یہ ٹرینڈ ملک کے باشندوں کے درمیاں حد فاصل کا کام دے گا۔حالانکہ مذاہب کے تعلق سے یہی کہا جاتا ہے کہ ”مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا“۔لیکن اس وقت جو ماحول ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نفرت کی یہ فضا مذہب ہی پیدا کررہا ہے۔شرپسند عناصر کو سمجھنا چاہئے کہ ان کے اس عمل سے ہندو دھرم کی مقبولیت میں کمی آئے گی۔ہندودھرم کے نظریہ عدم تشدد پر انگلیاں اٹھیں گی۔وسودیوکٹمبھکم بکھر جائے گا۔ساری دنیا میں بھارت کی رسوائی ہوگی۔میں یہ بات بھی سمجھنے سے قاصر ہوں کہ سنگھ پرمکھ ایک طرف تو ملک میں امن و شانتی کی بات کرتے ہیں،دھرم سنسد کے بیانات سے عدم اتفاق کا اظہار کرتے ہیں،مگر دوسری طرف ایسے لوگوں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں جو مسلمانوں کی بہو بیٹیوں کا نقاب نوچ رہے ہیں۔

بعض ایسے یوروپین ممالک میں بھی حجاب کو مسئلہ بنایا گیا ہے۔جہاں پبلک مقامات پر کھلے عام سیکس کیا جاسکتا ہے۔یہی وہ ممالک ہیں جو انسان کی مکمل آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں۔آخر یہ کیسی آزادی ہے جہاں ایک شخص کو ننگے رہنے کی آزادی تو ہو مگر دوسرے شخص کو کپڑے پہننے کی آزادی نہ ہو۔لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ہماری بہنوں کی جدو جہد رنگ لارہی ہے۔فٹبال اور باسکٹ بال کے عالمی مقابلوں میں اب حجاب کو منظوری حاصل ہے۔باحجاب پائلٹ جہاز اڑا رہی ہیں۔برطانیہ میں باحجاب خاتون عدالت عظمیٰ کی جج ہے۔آزاد خیال ملک سنگا پورکی صدر حلیمہ یعقوب ایک باحجاب خاتون ہیں۔مجھے اپنی ان تمام بہنوں پر ناز ہے جنھوں نے حجاب کے لیے جدو جہد کی اور شیطان کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔

ایک عرض اپنی قوم کے لوگوں سے بھی کرنا چاہتا ہوں۔یہ مسائل دراصل ہمارے اختلاف،ہماری بے عملی اور اسلام کی تعلیمات اہل ملک تک نہ پہنچانے کا نتیجہ ہیں۔ہمارے یہاں فقہی مسالک کے اختلاف نے عدالتوں کو پرسنل لاء میں دخل اندازی کا حق دے دیا۔اب عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ حجاب کا حکم قرآن مجید میں کہاں ہے۔پھر دنیا یہ بھی دیکھتی ہے کہ ہزاروں مسلمان خواتین حجاب نہیں پہنتیں،ان کی بے پردگی کو بھی اسلام سمجھاجاتا ہے۔اس سلسلے میں مجھے سکھ بھائیوں پر فخر ہے،انھوں نے اپنے عقیدے کے مطابق جن اعمال کو ضروری سمجھا ہے ان اعمال پرساری سکھ قوم عمل کرتی ہے۔ان کے یہاں پگڑی لازمی ہے تو کوئی ننگے سر نظر نہیں آئے گا۔اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ تمام سرکاری محکموں میں انھیں داڑھی رکھنے اور پگڑی پہننے کی اجازت ہے۔یہاں تک کہ فوج میں بھی وہ داڑھی اور پگڑی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ انسانوں کی بھیڑمیں ایک سکھ دور سے دیکھا جاسکتا ہے۔لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔اس پہلو پر توجہ کی ضرورت ہے۔

ملک جس راہ پر چل رہا ہے،اس راہ پر مسلمانوں کے لیے ایسے مسائل ہر دن آئیں گے۔اس لیے ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔اسلامی احکامات پر ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ضرورت ہے کہ اپنے احتجاجات قانون کے دائرے میں ہوں۔عدالتوں میں صحیح سے پیروی ہو۔میڈیا کے ذریعے صحیح صورت حال دنیا کے سامنے لائی جائے۔حجاب کے اس ایشو سے انشاء اللہ ہماری بہن بیٹیاں حجاب کی طرف راغب ہوں گی۔اسلام کے نظام حجاب پر بحثیں ہوں گی۔اس طرح اسلام کی تبلیغ و اشاعت ہوگی۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN