اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہند قدامت پسند اردو سے اتنے چڑتے کیوں ہیں؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ہند قدامت پسند اردو سے اتنے چڑتے کیوں ہیں؟
105
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: نیاز فاروقی

اپنی سرزمین یا برادری کی تاریخی کامیابیوں پر فخر محسوس کرنا ایک عام بات ہے اور اس لحاظ سے بھارت میں اردو ان زبانوں میں سے ایک ہے جس پر بہت سے اہل زبان فخر کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سادی سی ہے اور وہ یہ کہ اُردو فارسی، عربی، ہندی اور سنسکرت جیسی متعدد زبانوں اور روایتوں کا سنگم ہے جو کہ ہندوستانی معاشرے کی وسعت کی نمائندگی کرتی ہے۔

لیکن حالیہ دنوں میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اُردو اور اس سے منسلک تہذیب و تمدن بھارت کی ہندو قدامت پسند جماعتوں کی بظاہر ضد بن چکی ہے اور ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات میں ہر وہ جواز شامل ہے جو کہ بھارت میں دائیں بازو کی سیاست کا بڑے پیمانے پر حصہ ہے۔

اس کی حالیہ مثال گذشتہ ہفتے نظر آئی جب دائیں بازو کی ایک سخت گیر نظریات رکھنے والی جماعت سے منسلک افراد نے فیب انڈیا نامی ملبوسات بنانے والی کمپنی کی طرف سے جاری کردہ ’جشن رواج‘ نامی ایک اشتہار پر یہ کہہ کر احتجاج کیا کہ یہ اشتہار ہندو مذہب اور روایات کو غلط طریقے سے پیش کرتا ہے۔ ساتھ ہی اس کے نام میں اُردو الفاظ کے استعمال پر بھی سوالیہ نشان لگائے گئے۔

حالیہ برسوں میں اس نوعیت کے بہت سے واقعات رونما ہوئے جن میں اُردو زبان، اردو ثقافت اور یا اس سے جڑی تہذیب سے متعلق نشانیوں پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی۔ مثلاً سنہ 2018 میں ریاست اترپردیش کی حکومت نے شہر الہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج رکھ دیا۔

اسی طرح ’مغل سرائے‘ کو ہندو نظریاتی رہنما کے نام پر ’دین دیال اپادھیائے‘ اور فیض آباد کو ’ایودھیا‘ کے نام سے بدل دیا گیا۔ ریاست اتر پردیش کے ہی دوسرے شہروں جیسا کہ سلطان پور، علی گڑھ اور مظفر نگر کے ناموں کو بدلنے کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

ان اقدامات کا جواز پیش کرتے ہوئے مظفر نگر کے رکن اسمبلی سنگیت سوم نے کہا تھا کہ ’یہ ہندوستان کی ثقافت کو بحال کرنے کی کوشش ہے‘، خاص طور پر ’ہندوتوا‘ جسے مغلوں نے ’مٹانے کی کوشش‘ کی تھی۔

احمد آباد کے بارے میں بات کرتے ہوئے گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ نتن پٹیل کہہ چکے ہیں کہ ’یہ نام غلامی کی علامت‘ ہے۔

اسی طرح کی سیاست اور ملبوسات کی کمپنی کے اشتہار پر تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے نئی دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اُردو کے سربراہ ڈاکٹر شہزاد انجم کہتے ہیں کہ ’اس طرح کی کارروائیوں کی وجہ سیاسی ہے بالکل ویسے ہی جیسے شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کا معاملہ ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اسے ایک مسئلے کی شکل دی جا رہی ہے لیکِن سچائی تو یہ ہے کہ اخبارات کی زبان، ریڈیو کی زبان، ٹی وی کی زبان، عام بول چال کی زبان سب ہندوستانی ہے۔ اس میں اُردو اور ہندی دونوں شامل ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اُردو بغیر ہندی کے زندہ نہیں رہ سکتی ہے اور ہندی کا وجود اُردو کے بغیر نامکمل ہے۔‘

ڈاکٹر شہزاد انجم مزید کہتے ہیں کہ ’اس وقت بھی بھارت میں جو لوگ اُردو کے لیے سب سے زیاد کام کر رہے ہیں وہ ہمارے غیر مسلم لوگ ہی ہیں۔‘

اردو پر ہندو قدامت پسندوں کے اعتراضات اور اس پر ہندی کی برتری کے دعوؤں کی ایک طویل تاریخ ہے۔

19ویں صدی میں جب ہندوستان کی سرکاری زبان فارسی تھی اور عام لوگوں کی زبان اُردو تھی، بھارتیندو ہریش چندر نے ’ہندی، ہندو اور ہندوستان‘ کا نعرہ دیا تھا۔ یہ نعرہ سنہ 1920 کی دہائی میں مزید مقبول ہوا جب ہندو دائیں بازو کے نظریات انڈیا میں ایک ٹھوس شکل اختیار کر رہے تھے۔

بھارت کے بابائے قوم مہاتما گاندھی نے سنہ 1925 میں شمارہ ’ینگ انڈیا‘ میں لکھا تھا کہ ’ہمیں مقامی زبانوں کو دبانے کے لیے نہیں بلکہ ان کے علاوہ ایک مشترکہ زبان کی ضرورت ہے۔ عام طور پر اس بات پر اتفاق کیا جاتا ہے کہ یہ میڈیم ہندوستانی ہونا چاہیے جو کہ ہندی اور اردو کا مجموعہ ہو، نہ کہ اس میں سنسکرت، فارسی یا عربی کی بہتات ہو۔‘ سنہ 1937 میں جواہر لال نہرو نے بھی ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ہندوستانی زبان ایک ’گولڈن مین‘ ہے یعنی ’سنہری اوسط‘ ہے۔

یہ بحث آزادی کے بعد آئین ساز اسمبلی میں آئین کا مسودہ تیار کیے جانے کے دوران بھی جاری رہی۔ بہت سے ارکان نے ہندوستانی کے بجائے ہندی کو (جو کہ اُردو کے اثرات سے محروم ہو) ایک ممکنہ قومی زبان کے طور پر پیش کیا۔

بھارت میں، جہاں کہ متعدد علاقائی زبانیں ہیں اور ہر ایک سے ان کی ثقافت اور تاریخ جڑی ہے، ایک قومی زبان کا انتخاب کرنا آسان کام نہیں تھا۔ اور یقیناً اس پر اتفاق رائے بنانے کے لیے اسمبلی نے سب سے زیادہ وقت زبان کے موضوع پر لیا۔

بالآخر اس کا نتیجہ ایک عارضی درمیانی راستے کے طور پر آیا جسے کچھ محققین نے ایک ’بے من کا سمجھوتہ‘ کہا۔ اس سمجھوتے کے مطابق دیوناگری رسم الخط میں ہندی یونین کی سرکاری زبان ہو گی (سرکاری، قومی نہیں)۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اگلے 15 برسوں تک تمام سرکاری مقاصد کے لیے انگریزی کا استعمال جاری رہے گا، تاکہ غیر ہندی بولنے والی ریاستیں آسانی سے منتقلی کر سکیں۔ اس کی آخری تاریخ 26 جنوری 1965 تھی۔ لیکن اس کے بعد ہندی کے نفاذ کے اشارے بڑے پیمانے پر احتجاج کا باعث بنے اور سنہ 1956 میں بھارت کو لسانی بنیادوں پر اپنی ریاستوں کی تنظیم نو کرنا پڑی۔

جب بالآخر 1965 کی ڈیڈ لائن آئی تو شمالی ہند کے سیاست دانوں، بشمول وزیر اعظم لال بہادر ساشتری، دوبارہ ہندی کو قومی زبان کے طور پر لانے کی کوشش کی۔ لیکن تمل ناڈو (جہاں تمل بنیادی زبان ہے) میں پُرتشدد احتجاج شروع ہو گئے، اور یہاں تک کہ مرکزی حکومت میں موجود تمل ناڈو کے وزرا مستعفی ہو گئے۔

ملک کے کئی حصوں میں فسادات ہوئے، خاص طور پر تمل ناڈو میں (ہندی کو مسلط کرنے کی مخالفت اس قدر مضبوط تھی کہ اس نے ٹی ڈی پی نامی ایک سیاسی جماعت کی شکل اختیار کر لی جو کہ تمل ناڈو کی موجودہ حکمران جماعت ہے۔)

وزیر اعظم کو بالآخر ملک کو یقین دلانا پڑا کہ ریاستیں انگریزی یا اپنی پسند کی زبان استعمال کر سکتی ہیں، جس کا مطلب یہ تھا کہ ہندی اور انگریزی سرکاری زبانیں رہیں گی لیکن غیر ہندی بولنے والی ریاستیں انگریزی اور ایک علاقائی زبان کو اپنی سرکاری زبانوں کے طور پر منتخب کر سکتی ہیں۔ یہ معاملہ اب بھی سرکاری طور پر موجود اور انگریزی اور ہندی سرکاری زبانوں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں لیکن کوئی قومی زبان نہیں۔

دوسری مقامی زبانوں کے برعکس اردو کی حیثیت

اسی طرح اردو بھارت کی سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے، لیکن حکومتی تعاون کی کمی اور ملک میں اس سے منسلک معاشی امکانات کی کمی کے باعث زبان لکھنے اور بولنے والوں کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے منسلک ماہرسیاسیات و لسانیات پاپیا سین گپتا حکومت کی جانب سے اردو کو نظر انداز کیے جانے کی مثال 2019 میں جاری ہونے والی نئی تعلیمی پالیسی کے حوالے سے دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’نئی تعلیمی پالیسی کے صفحات میں کہیں بھی آپ کو اردو نہیں ملے گی۔ حکومت نے درحقیقت سنسکرت کو لازمی بنانے کی کوشش کی ہے اور آپ کو زبان کی مزید سنسکرتائزیشن اور برہمنائزیشن نظر آئے گی، لیکن اردو مکمل طور پر غائب نظر آئے گی۔ کم از کم یہ بات تو اس میں حکومت نے واضح طور پر کہہ دی ہے۔‘

اگرچہ ماضی میں اردو کے ساتھ امتیازی سلوک پر احتجاج ہوئے ہیں، اس بار شاید ہی کہیں پرزور طریقے سے اس کی مخالفت ہوئی ہو۔ تاہم غیر ہندی بولنے والی ریاستوں پر ہندی کو دوبارہ مسلط کرنے کی کوششیں ہمیشہ سنجیدہ احتجاج کا باعث رہی ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ دائیں بازو کی ہندو تنظیمیں دیگر ہندوستانی زبانوں کے ساتھ ایک حکمت عملی سے پیش آتی ہیں لیکن اردو پر ان کا حملہ براہ راست اور غیر معذرت خواہ ہوتا ہے۔

پاپیا کہتی ہیں کہ ’یہ ہندوتوا کی سیاست ہے۔ اس کے پیچھے صرف مذہب ہی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ایک پوری سیاسی معیشت ہے۔ انڈیا ہمیشہ سے کثیر الثقافتی ملک رہا ہے اور فیب انڈیا کے خلاف احتجاج جیسی کارروائیوں کے ذریعے وہ ثقافت پر اجارہ داری مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

اردو سے اتنی نفرت کیوں؟

ہندو دائیں بازو زبان اور مذہب کے فرق کو اکثر الجھاتا ہے۔ حالانکہ ماہرین اردو کو بین الثقافتی زبان سمجھتے ہیں، ہندو قدامت پسند اسے خصوصاً مسلمانوں کی زبان کے طور پر دیکھتے ہیں اور وسیع پیمانے پر اس سے منسلک دوسرے ثقافتی نشانات جیسے فارسی اور عربی یا مغلوں اور مسلمانوں کے دور حکومت سے متعلق ہر چیز کی مخالفت کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس مخالفت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان نے اردو کو اپنی قومی زبان کے طور پر اپنایا، انڈیا میں اس کے برعکس ہندی کو ملک کی قومی زبان بنانے پر مزید زور دیا جانے لگا اور اردو کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ لیکن زمینی سطح پر عام بول چال کی زبان اردو ہی ہے، یہاں تک کہ ہندی بولنے والے بھی اردو سے منسلک الفاظ کا عام طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ ناگوار سچائی سیاست کے راستے میں نہیں آتی۔

فیب انڈیا کے متنازع اشتہار ’جشن رواج‘ کی مثال دیتے ہوئے پاپیا کا کہنا ہے کہ رواج یا جشن اب کوئی عربی یا فارسی لفظ نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘یہ چلتی بھاشا ہے، اس قسم کی اصطلاحات کو عام بول چال میں استعمال کیا جاتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس طرح کی کارروئیاں تین اہم پہلؤں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ پہلا یہ کہ مارکیٹ (کاروباری دنیا) ان کے مقرر کردہ ’قوانین‘ کی ضرور پابندی کرے۔ دوسرا یہ کہ یہ وہ طے کریں گے کہ ہندو کون ہے اور اس قوم کا نظریہ کیا ہو گا۔ تیسرا یہ کہ اس طرح کی کارروائیاں کسانوں کے احتجاج، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے دیگر اہم مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے میں مدد کرتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ‘مسلمانوں کے خلاف بیان بازی اب تک ان کے لیے کافی مددگار ثابت ہوئی ہے۔‘ اگرچہ بہت سے لوگ مسلم مخالف بیانیہ اور کارروائیوں کو ملک کے بڑے مسائل کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم کولکتہ کی عالیہ یونیورسٹی میں میڈیا کے پروفیسر محمد ریاض اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بالکل بھی خلفشار نہیں ہے۔ یہ یقینی طور پر لنچنگ کے برابر نہیں ہو سکتا ہے لیکن یہ ان کے بڑے منصوبے کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ حالیہ برسوں میں زیادہ نمایاں ہو رہا ہے اور بے ضرر طریقوں سے ظاہر ہو رہا ہے۔ ’مثال کے طور پر بالی وڈ کو لے لیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا مظہر ہے۔ بالی ووڈ کی فلمیں ہندوستانی زبان میں ہوا کرتی تھیں اور اس میں اردو ایک اہم حصہ تھا، چاہے انھیں ہندی فلمیں ہی کیوں نہ کہا جائے۔‘

’لیکن 1990 کی دہائی میں نغمہ نگاروں اور گلوکاروں کی موجودہ فصل پچھلے پیشہ وروں کے برعکس، جو کہ اردو جانتے تھے، زبان کو بمشکل ہی جانتے ہیں اور یہ ان کے تلفظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ یہ زبان کی قدر میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔‘

وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ بات ہندی اخبارات کے لیے بھی حقیقت ہے جو کہ اب انگریزی الفاظ کا آزادانہ استعمال کرتے ہیں لیکن ہندوستانی زبان کا ایک جزو اردو ان میں بہت کم نظر آتا ہے۔

ہندو دائیں بازو اردو کو ایک غیر ملکی اور خصوصاً مسلمانوں کی زبان سمجھتا ہے اور اکثر مذہب اور روایت میں فرق نہیں کرتا۔ یہ فعل دانستہ ہے یا نادانستہ ہے، وہ بحث کا موضوع ہے لیکن اس سے ان کے مقصد میں ضرور مدد ملتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ واقعات بتاتے ہیں کہ ان کی مخالفت کرنے والے یا تو معافی مانگ لیتے ہیں یا خاموشی اختیار کرنا بہتر سمجھتے ہیں، جو کہ ماہرین کی نظر میں ہندو قدامت پسندوں کی جیت ہے۔ انجم کہتے ہیں کہ حالانکہ ’یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن جو ’نیا ہندوستان‘ بن رہا ہے، یہ اس کا حصہ ہے۔‘

(بشکریہ: بی بی سی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN