ان پرتشدد واقعات کے بعد وی ایچ پی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے پولیس اور انٹیلی جنس کی کوتاہی قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس کے متعلق کئی ہیش ٹیگ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں منی پاکستان بھی ایک ہیش ٹیگ ہے۔اس کے تحت یہ کہا جا رہا ہے کہ میوات کا علاقہ مسلم اکثریتی آبادی والا علاقہ ہے جہاں 80 فیصد مسلم آباد ہیں۔ یہ علاقہ دہلی سے ملحق ہے جہاں زیادہ تر کسان رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس تعلق سے منافرت بھرے پیغامات نظر آتے ہیں جن میں سے زیادہ تر اشتعال انگیز ہیں۔
بی جے پی کے رہنما کپل مشرا نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’نوح میوات میں آج بے گناہ ہندو خواتین، بچے، غیر مسلح عقیدت مندوں کو جہادیوں نے گھیر لیا، منصوبہ بند قاتلانہ حملہ کیا۔ صحافیوں اور پولیس اہلکاروں کے قتل کی کوشش کی۔ میوات میں ہونے والے اس حملے کے حملہ آور وہی لوگ ہیں جو میوات کو منی پاکستان بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔
انھوں نے مزید لکھا: ‘ملک کی سیکولر سیاست اور صحافت کے شاہین باغ جہادی گینگ نے میوات میں اس طرح کے حملوں کے لیے نظریاتی کردار بنانے کا کام کیا ہے۔’
ن کے اس ٹویٹ کے جواب میں لوگوں نے بڑی تعداد میں انھیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ دونوں جگہ حکومت آپ کی ہے تو پھر ایسا کیونکہ کر ہوا۔ کوئی اسے ووٹ مانگنے کی سازش کہہ رہا ہے تو کوئی منافرت پھیلانے کا الزام لگا رہا ہے۔








