نئی دہلی (خاص خبر)جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قائم مقام وی سی کا کہنا ہے کہ جب اے ایم یوکو نہرو میڈیکل کالج مل سکتا ہے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ کو شری نریندر مودی میڈیکل کالج کیوں نہیں مل سکتا راشٹرواد کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ جامعہ نے قوم پرستی کی گود میں جنم لیا، وہ تحریک خلافت کا دور تھا اور جو لوگ ہندوستان کو انگریزوں سے آزادی دلانے کے لیے نکلے تھے، ان میں وہ رہنما شامل تھے جن کے قد کاٹھ میں مہاتما گاندھی، علی برادران اور حکیم اجمل خان شامل تھے۔ ان کی باتوں کی پیروی کرنے والے طلبہ کا گروپ جامعہ ملیہ سے شروع ہوا تھا۔”
جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر اقبال حسین نے کوئنٹ ہندی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ باتیں کہیں ۔ جب ان سے قوم پرستی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، "طلباء کے گروپ میں ہر مذہب اور فرقے کے لڑکے تھے۔ انہوں نے یہاں سے آواز اٹھائی اور مہاتما گاندھی کی پیروی کی اور کہا کہ اگر ہم ہندوستان میں رہیں گے تو ہم قوم پرستی کے ساتھ رہیں گے، اگر ہم ہندوستان میں پڑھیں گے تو ہم قوم پرستی کے ساتھ رہیں گے۔ لیکن وقت بدل گیا اور لوگوں نے جامعہ کو تھوڑا سا توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی۔
ہم بار بار کہتے ہیں کہ اگر آپ قوم پرستی کی مثال دیکھنا چاہتے ہیں تو جامعہ کے اندر آکردیکھیں
یونیورسٹی میں مستقل استاد کا مسئلہ کب حل ہوگا؟
دی کوئنٹ کے اس سوال پر مسٹر حسین نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ اساتذہ کی تقرری میں بہت زیادہ کمی ہے۔ لیکن ہاں، بہت سے اساتذہ ریٹائر ہو چکے ہیں، ان کی جگہوں کو پر کرنے کے لیے وزارت کو بھیجا گیا ہے، جیسے ہی پوسٹ کی منظوری کا حکم آئے گا، وقت کے اندر ان کو تعینات کردیا جائے گا ایک اور سوال کے جواب میں قائم مقام وائس چانسلر نے کہا کہ جب حکومت نے اعلان کر دیا ہے تو گرانٹ بھی دے گی۔ کل وقتی وائس چانسلر کے آنے پر اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ جامعہ میں میڈیکل کالج کے بارے میں انہوں نےکہا کہ لیکن جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو نہرو میڈیکل کالج مل سکتا ہے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ کو شری نریندر مودی میڈیکل کالج کیوں نہیں مل سکتا؟
دریں اثناء قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر۔ اقبال حسین نے یہ بھی یقین دلایا کہ طلباء کے ہاسٹل کا مسئلہ بھی اگلے سیشن تک حل کر دیا جائے گا۔









