ہریانہ کے نوح ضلع میں 31 جولائی کو ہوئے تشدد سے متعلق کیس میں منگل کو پولس کو ایک اہم پیش رفت ملی۔ پولیس نے مبینہ گئو رکھشک بٹو بجرنگی کو تشدد بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ پولیس کی خصوصی ٹیم نے بٹو بجرنگی کو فرید آباد سے گرفتار کیا اور اب وہ پوچھ گچھ کے دائرے میں ہے۔
ٹی وی 9بھارت نے اس پر ایک رپورٹ شائع کی ہے اس کا کہنا ہے کہ بٹو بجرنگی کے خلاف درج ایف آئی آر میں وہ تمام باتیں منظر عام پر آ گئی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ نوح میں تشدد کو کیسے بھڑکایا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق 31 جولائی کو جب نوح میں دھارمک یاترا ہو رہی تھی تو منتظمین کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اس میں کسی بھی قسم کا اسلحہ ساتھ نہ لائے۔ لیکن جب میں ڈیوٹی کے دوران مندر کے قریب پہنچی تو نوح کی طرف سے 15-20 لوگ آتے ہوئے نظر آئے جن میں سے اکثر کے پاس تلواریں، ترشول اور دیگر ہتھیار تھے۔ ہم نے اس ہجوم کو روکنے کی کوشش کی اور ہتھیار واپس لینے کی کوشش کی، لیکن ان کی پولیس سے ہاتھا پائی ہوئی۔

اسی ایف آئی آر میں بٹو بجرنگی کا نام بھی ہے، بتایا گیا ہے کہ اس کے ساتھیوں نے زبردستی پولیس سے اسلحہ چھین لیا اور بعد میں سب نے پولیس کی گاڑی کے سامنے نعرے بازی شروع کردی۔ بعد میں جب مداخلت کی گئی تو بٹو بجرنگی اور اس کے ساتھی پولس گاڑی میں موجود تلوار ترشول لے کر بھاگ گئے۔ ایف آئی آر میں مختلف دفعات کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں بٹو بجرنگی اور ان کے ساتھیوں کو ملوث کیا گیا ہے۔ بٹو بجرنگی تب سے مفرور تھا اور پولیس اس کی تلاش میں تھی۔ بٹو بجرنگی کے تشدد سے متعلق ویڈیوز بھی وائرل ہوئے، جس میں وہ اشتعال انگیز زبان استعمال کر رہاتھا۔ یہی نہیں، اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کا جواب صرف ان لوگوں کے لیے ہے، جنہوں نے انہیں دھمکیاں دی تھیں۔
واضح ہو کہ بٹو بجرنگی کو آئی پی سی کی دفعہ 148، 149، 332، 353، 186، 395، 397، 506 اور آرمس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، جو اوشا ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، نوح، کی طرف سے مقدمہ نمبر 413 مورخہ 15 اگست 2023 کو درج کیا گیا تھا۔








