نرمداپورم: بین اقوامی ہندو پریشد کے سربراہ اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کے لیے مشہور پروین توگڑیا نے ایک بار پھر نفرت انگیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی بڑھنے نہیں دیں گے اور ملک میں وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، وزیر، ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ ہندو کے علاوہ کسی کو نہیں بننے دیں گے۔
قومی آواز کے مطابق مدھیہ پردیش کے نرمدا پورم میں ’ہندی ساہتیہ سمیلن‘ نامی تقریب میں شرکت کرنے پہنچے پروین توگڑیا نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کی اجازت نہیں دی جاۓ گی اور ایسا قانون بنائیں گے کہ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے مسلمانوں کو سرکاری نوکری، سرکاری اناج، سرکاری اسکول، اسپتالوں میں مفت سروس اور بینک لون جیسی سہولیات نہیں ملیں گی
توگڑیا نے مزید کہا کہ وہ حکومت کو ہندووں کے کنٹرول میں کرنے کے لیے آئینی ترمیم لے کر آئیں گے جس میں یہ التزام کیا جائے گا کہ ملک میں وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، وزیر، ضلع مجسٹریٹ، ایس پی، جج وغیرہ ہندو کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کے شخص کو بننے نہیں دیں گے۔
توگڑیا نے مزید کہا کہ انہوں نے رام جنم بھومی کے لیے ایک کامیاب تحریک چلائی تھی اور اب وہ ہندو بیداری کے دوسرے مرحلے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ایک لاکھ مراکز بنائے جا رہے ہیں، جن میں ایک کروڑ ہندو شامل ہوں گے۔







