نئ دہلی عام آدمی پارٹی نے آئینی یا قانونی عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود بی جے پی کے لیے کام کرنے کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ ‘نیا انڈیا’ کی خبر میں کہا گیا ہے کہ دراصل بی جے پی نے سب سے پہلے یہ مسئلہ اٹھایا کہ جیسمین شاہ دہلی ڈائیلاگ اینڈ ڈیولپمنٹ کمیشن یعنی ڈی ڈی سی کے نائب صدر ہیں اور عام آدمی پارٹی کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ جواب میں AAP نے سمبت پاترا اور اقبال سنگھ لال پورہ کا مسئلہ اٹھایا۔
یہ دونوں قانونی عہدوں پر فائز ہیں اور پھر بھی سرکاری طور پر بی جے پی کے لیے کام کرتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کرے گی؟ کیا یہ دونوں سرکاری عہدہ چھوڑیں گے یا پارٹی عہدہ؟عام آدمی پارٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جیسمین شام پارٹی میں کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے استعفیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری طرف سمبت پاترا انڈین ٹورازم ڈیولپمنٹ کمیشن یعنی آئی ٹی ڈی سی کے چیئرمین ہیں اور بی جے پی کے قومی ترجمان ہیں۔
وہ ہر ٹیلی ویژن چینل پر پارٹی کے قومی ترجمان کے طور پر بیٹھتے ہیں اور پارٹی کے لیے پریس کانفرنسیں بھی کرتے ہیں۔ ان کا نام بی جے پی کی ویب سائٹ پر قومی ترجمانوں کی فہرست میں شامل ہے۔ اسی طرح سابق آئی پی ایس افسر اقبال سنگھ لال پورہ قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ہیں اور حال ہی میں انہیں بی جے پی کی قومی ایگزیکٹو کا رکن بنایا گیا تھا۔ آئی ٹی ڈی سی کے چیئرمین اور اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کے عہدوں پر سیاست دانوں کی تقرری کی گئی ہے، لیکن یہ عہدہ غیر سیاسی ہے۔ ان عہدوں پر فائز رہتے ہوئے کوئی شخص کسی سیاسی جماعت کے لیے کام نہیں کر سکتا۔








