آئندہ لوک سبھا انتخابات (2024) کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں، لیکن ہریانہ میں بی جے پی اور جے جے پی مخلوط حکومت کے درمیان نوک جھونک اور کھٹ پٹ کی اطلاعات ہیں۔ خبروں کی دنیا میں اب یہ چرچا ہو رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کھٹر حکومت کی مشکلات بڑھنے والی ہیں۔ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ہریانہ بی جے پی کے ریاستی انچارج بپلو دیو نے پارٹی لیڈر پریم لتا کو اوچانکلن سیٹ سے ایم ایل سی کے طور پر نامزد کیا تھا۔ جے جے پی لیڈروں نے اس پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا تھا۔ اب یہ معاملہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ دونوں جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے پر زبانی تیر برسا رہے ہیں۔ ایسے میں کھٹر حکومت کے وجود پر بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
90 اسمبلی سیٹوں والے ہریانہ میں اکثریت کے لیے 46 سیٹوں کی ضرورت ہے۔ اس وقت بی جے پی 41 سیٹوں پر قابض ہے، جب کہ جے جے پی کے پاس 10 سیٹوں پر ایم ایل اے ہیں۔ اگر جے جے پی ایم ایل اے کی ناراضگی کم نہیں ہوتی ہے تو بی جے پی کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے قبل اس طرح کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بی جے پی کو لوک سبھا انتخابات میں بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
ازی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کچھ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ہریانہ میں 6 آزاد ایم ایل اے ہیں جو مکمل طور پر بی جے پی حکومت کی حمایت میں ہیں۔ ایسے میں اگر ہریانہ کے نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ اپنے ایم ایل ایز کو لے کر اتحاد توڑ دیتے ہیں تو بی جے پی کو کوئی خاص نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس اب بھی چھ آزاد ایم ایل ایز کے ساتھ اکثریت کے لیے 47 کی مطلوبہ تعداد ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کو ایم ایل اے گوپال کانڈا کی بھی حمایت حاصل ہے۔







