نئی دہلی:( آر کے بیورو)
بی جے پی کے سینئر لیڈر اور گاندھی خاندان کے اہم فرد ورون گاندھی کو عرصہ سے بی جے پی نے کولڈ اسٹوریج میں ڈال رکھا ہے۔ سلطان پور سے ایم پی ورون ان دنوں بی جے پی سے سخت ناراض چل رہےہیں اور حالیہ دنوں میں کسانوں کی تحریک کے دوران دوریاں بہت بڑھ گئیں۔ لکھیم پور واقعہ پر پارٹی لائن سے ہٹ کر انہوں نے اس کی سخت مذمت کی ۔خبر ہے کہ انہوں ٹوئٹر سے بی جے پی لفظ ہٹادیا ہے ۔ لگتا ہے وہ کوئی بڑا قدم اٹھانے والے ہیں ۔
سیاسی گلیاروں میں قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ ان دنوں گاندھی فیملی کے درمیان نزدیکیاں بڑھ رہی ہیں۔ پارٹی کا ایک طبقہ انہیں کانگریس میں لا کر کنہیا کمار جیسا سیا سی دھماکہ کرنا چاہتا ہے ۔ راہل گاندھی پارٹی کو نیا کلیور دے رہے ہیں وہ پرانے لوگوں سے چھٹکارا چاہتے ہیں جو اپنے بوتے اپنی سیٹ بھی نہیں جیت سکتے اور بوجھ بن گئے ہیں، وہ جی ٹونٹی کو مارگ درشک منڈل بنادینا چاہتے ہیں وہ نیا خون امپورٹ کرنے کی پالیسی پر شدومد سے کام کررہے ہیں۔
جو قیاس آرایاں ہیں اگر وہ حقیقت میں بدل گئیں تو یہ بہت بڑا سیاسی الٹ پھر ثابت ہوگا۔ سیاست میں سب کچھ ممکن ہے ،جیسے ایکسٹرا لیفٹسٹ کنہیا کمار نے سینٹر ٹو رائٹ کیا، یو ٹرن لیا۔










