نئی دہلی احتجاجی پہلوانوں کا دھرنا بغیر کسی مانگ کو سرکار کی طرف سے تسلیم کیے بغیر ختم ہوگیا برج بھوشن سنگھ اپنے عہدے پر قایم رہیں گے اور ریسلنگ فیڈریشن بھی تحلیل نہیں کی جاۓ گی ۔خبر کے مطابق ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (WFI) کے سربراہ برج بھوشن سنگھ اور پہلوانوں کے درمیان جاری تنازع میں وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر کی سرکاری رہائش گاہ پر 7 گھنٹے تک میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی تحقیقات کرکے 4 ہفتوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کی تحقیقات مکمل ہونے تک برج بھوشن سنگھ ریسلنگ ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے خود کو روزمرہ کے کاموں سے دور رکھیں گے۔ انوراگ ٹھاکر کی یقین دہانی کے بعد پہلوانوں کی جانب سے بجرنگ پونیا نے جنتر منتر پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔
انوراگ ٹھاکر نے کہا، ‘ہم نے 7 گھنٹے تک پہلوانوں کو سنا۔ اسی دن، ہم نے ریسلنگ ایسوسی ایشن سے 72 گھنٹے کے اندر جواب دینے کو کہا۔
وہیں پہلوانوں کی جانب سے بجرنگ پونیا نے کہا، ‘وزیر نے ہماری بات سنی ہے۔ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چار ہفتوں میں نتائج دینے کی بات ہو رہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ منصفانہ تحقیقات ہوگی۔ کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے وزیر نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ پہلے کھلاڑی خوفزدہ تھے۔ سب کو سمجھا دیا گیا ہے۔ وزیر نے یقین دلایا کہ ہم ہر قدم پر ساتھ کھڑے ہیں۔ساتھ ہی انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (IOA) نے پہلوانوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے 7 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ آئی او اے کی میٹنگ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی اور اس میں کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا۔ اس کمیٹی میں باکسر میری کوم (چیئرپرسن)، ڈولا بنرجی، الکنندا اشوک، یوگیشور دت، سہدیو یادو اور دو وکیل شامل ہیں۔








