نوبل امن انعام یافتہ ماہر معاشیات محمد یونس نے بنگلہ دیش کی نئی عبوری حکومت کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے اور ان کا حالیہ بیان بھارت کے لیے ایک وارننگ ہے۔ ایک نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش میں عدم استحکام ہوا تو میانمار کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی شمال مشرقی اور مغربی بنگال ریاستیں بھی متاثر ہوں گی۔
یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ 84 سالہ محمد یونس شیخ حسینہ کے سخت ناقد ہیں۔ شیخ حسینہ حال ہی میں بنگلہ دیش کی صورتحال کے پیش نظر ہندوستان آئی تھیں۔ بنگلہ دیش میں تشدد کے آغاز اور حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے بی ایس ایف ہائی الرٹ ہے۔
بزنس اسٹینڈرڈ کے مطابق، جس دن یونس نے یہ انٹرویو دیا، اسی دن ہندوستان کی بی ایس ایف نے کہا تھا کہ اس نے مغربی بنگال میں بین الاقوامی سرحد پر بنگلہ دیشیوں کے ایک بڑے گروپ کو ہندوستان میں دراندازی کرنے سے روک دیا ہے۔ بی ایس ایف نے مبینہ طور پر اس دن تقریباً 120-140 بنگلہ دیشیوں کو روکا جو مختلف کونوں سے ہندوستانی سرحد میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
واضح ہو یونس نے یہ انٹرویو بنگلہ دیش واپس آنے سے پہلے ہی دیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں یونس نے کہا کہ بنگلہ دیش میں کئی سالوں سے امن و امان نہیں تھا اور اب اسے عدم استحکام کا سامنا ہے۔ حسینہ واجد کے وزیر اعظم کے طور پر استعفیٰ کا مطالبہ بڑھ گیا کیونکہ امن و امان بہت خراب ہو چکا تھا۔










