نئی دہلی :
میڈیکل جرنل لانسیٹ میں شائع ہونے والے ایک اداریہ میں ہندوستان میںیکم اگست تک کورونا کی وجہ سے 10 لاکھ افراد کی موت کا امکان ہے۔برطانیہ سے شائع ہونے والے اس مشہور میڈیکل جریدے میں ’انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیوایشن‘ کے حوالہ سے اعداد وشمار لئے گئے ہیں ۔ یہ ایک آزاد عالمی صحت کی تحقیقی تنظیم ہے۔
لانسیٹ نے مودی حکومت پر بھی سخت تنقید کی ہے۔ جریدے نے اپنے اداریہ میں لکھا ، ’اگر دس لاکھ سے زیادہ معاملے آتے ہیں تو اس قومی تباہی کا ذمہ دار مودی سرکار ہوگی۔ بھارت کو کووڈ 19-پر کنٹرول حاصل کرنے میں شروعات میں کامیابی ملی تھی، لیکن اپریل تک بھارت سرکارکی کووڈ 19-ٹاسک فورس کی مہینوں سے میٹنگ ہی نہیں ہوئی تھی۔
لانسیٹ نے مزید لکھا ، کورونا بحران کے دوران حکومت کی تنقید اور کھلی بحث کو روکنے کی مودی سرکار کی کارروائی کے لیے کوئی بہانہ نہیں دیا جاسکتا۔ سپر اسپریڈر ایونٹ کے انتباہ کے باوجود حکومت نے مذہبی تہواروں کی اجازت دی، جن میں پورے ملک سے لاکھوں لوگ پہنچے ، ساتھ میں سیاسی ریلیاں کی گئی، جن میں کووڈ کو روکنے کے اقدامات (پروٹوکول) کی کوئی پروا ہ نہیں کی گئی۔
بھارت اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائے
لانسیٹ میں بھارت کو کورونا کی لہر پر قابو پانے کے لئے حکمت عملی میں تبدیل کرنے کے لئے دو سطحی پالیسی بنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ پہلے تو’ناکام ویکسینیشن‘ مہم میں تبدیل کراسے منطقی بنایا جائے اور تیزی سے لاگو کیاجائے۔ اس کے لیے ویکسین کی فراہمی میں اضافہ اور ڈسٹریبوشن مہم چلائی جائے، جونا صرف شہری علاقوں، بلکہ گرامین علاقوں کو بھی شامل کرتا ہو۔
دوسری طرف بھارت کو کورونا وائرس پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی ہوگی ، ساتھ میں صحیح اعدادو شمار اشاعت کرنے ہوں گے۔ تاکہ عوام کو بتایاجاسکے کہ اصلیت میںملک میں کیا ہو رہاہے اور اس وبا کو ختم کرنے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں مرکزی لاک ڈاؤن کا امکان بھی شامل ہوگا۔








