نئی دہلی :(ایجنسی)
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمینت بسوا سرما نے کہا ہے کہ مدارس کا وجود ختم ہونا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مدارس ہیں بچے انجینئر اور ڈاکٹر بننے کا سوچ بھی نہیں سکیں گے۔
اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اگر آپ بچوں کو دین سے متعلق تعلیم دینا چاہتے ہیں تو گھر پر دکے لیے مدرسہ ہونا ضروری نہیں۔ یہ بھی کہا کہ ہمارا مقصد ہمیشہ سے عمو می تعلیم کو فروغ دینا رہا ہے۔
بچوں کے مستقبل پر تشویش کا اظہار
بسوا اتوار کو ’پنچ جنیہ‘میگزین کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب میں پہنچے تھے۔ اس دوران وہ مولانا آزاد یونیورسٹی حیدرآباد کے سابق وائس چانسلر کے سوالات کے جواب دے رہے تھے جب انہوں نے مدارس کے حوالے سے
بچوں کے مستقبل کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مدرسے جانے والے بچے پڑھائی میں بہت پیچھے ہیں۔ اس سے ان کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ مدرسہ کو تعلیم دینے کے لیے ایک بہتر تعلیمی ادارے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بچوں کو سائنس، ریاضی، بائیو سائنس جیسے مضامین پڑھائے جائیں، تاکہ وہ آگے بڑھ کر انجینئر، ڈاکٹر، پروفیسر بن سکیں۔ لیکن جب تک لفظ مدرسہ ہے بچے آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ اگر انہیں پہلے ہی بتا دیا جائے کہ وہ یہاں جا کر انجینئر یا ڈاکٹر نہیں بن سکیں گے تو وہ خود جانے سے انکار کر دیں گے۔
گھر میں قرآن پڑھائیں
انہوں نے کہا کہ میری سب سے اپیل ہے کہ اگر آپ بچوں کو قرآن پڑھانا چاہتے ہیں تو گھر پر پڑھائیں کیونکہ گھر سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ انہیں مدارس میں بھیجا جائے۔ چھوٹی عمر سے بچوں کو وہاں بھیج کر آپ ان کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ یہ ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ہندوستان میں تمام مسلمان ہندو تھے
پروگرام میں موجود ایک ریٹائرڈ اکیڈمک نے بتایا کہ مدرسے کے بچے بہت ہونہار ہیں۔ وہ قرآن کا ہر لفظ آسانی سے حفظ کر لیتے ہیں۔ ساتھ ہی، سی ایم نے جواب میں کہا کہ سب مسلمان پہلے ہندو تھے۔ ہندوستان میں کوئی مسلمان پیدا نہیں ہوا۔ ہندوستان میں ہر کوئی ہندو تھا۔ لہٰذا اگر کوئی مسلمان بچہ انتہائی باصلاحیت ہے تو اس کی وجہ ہندوؤں کی میراث ہے۔
تاہم، 2020 میں، آسام حکومت نے تمام مدارس کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد معاملہ گوہاٹی ہائی کورٹ پہنچا تھا۔









