نئی دہلی :(ایجنسی)
گیان واپی مسجد پر آر ایس ایس کے سربراہ کے بیان کے بعد اسد الدین اویسی نے کہا کہ موہن بھاگوت کی باتوں پر بالکل اعتبار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اگر آپ آر ایس ایس اور سنگھ پریوارکی تاریخ پڑھیںگے تو 1964 سے پہلے رام مند کا مسئلہ نہیں تھا۔ 1964 میں وشو ہندو پریشد اور رام مندر کا مسئلہ بنا۔ بی جے پی نے پالم پور قرار داد میں اس کو بنایا۔ تیسری بات جو آر ایس ایس کے لوگ نہیں بتا رہے ہیں کہ بجرنگ دل کس لئے بنایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ بجرنگ دل صرف رام مندر ، کاشی اور متھرا کے لئے بنایا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ موہن بھاگوت کہتے ہیں کہ رام مندر کے لئے ہم کو آندولن کرنا پڑا۔ وہ یہ بات کیسے کہہ رہے کہ جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ مسجد کو ہاتھ نہیں لگائیں گے ۔آپ نے کورٹ کو دھوکہ دیا، اس کے بعد بابری مسجد کو شہید کر دیا ۔ اس لئے موہن بھاگوت کی باتوںپر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
اویسی نے کہا کہ اگر ملک کے وزیر اعظم آکر ملک کو بتائیں کہ ان کی حکومت 1991 کے ایکٹ کو مانتی ہے اور اس کو لاگو کرے گی،دیکھئے 24 گھنٹے کے اندر یہ تمام پٹیشن اور جو لوگ مقدمے ڈال رہے ہیں ، یہ سب کے سب پیچھے ہٹ جائیں گے ۔ انہوں نے پوچھا کہ جو عرضی گزار کاشی میں گئے، کیاان کا تعلق وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس سے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی یہ پرانی عادت ہے کہ جب معاملہ گرم ہوتا ہے اور بدنامی کا اندیشہ ہوتا ہے تو وہ ہاتھ جوڑ لیتے ہیں، جب کوئی سیاسی معاملہ سمجھ میں آتا ہے تو فوراً اسے پکڑ لیتے ہیں۔
اویسی نے کہا کہ اگر یہ لوگ واقعی اپنے سرسنگھ چالک کے الفاظ کا احترام کرتے ہیں، ان کے الفاظ کا احترام کرتے ہیں، تو انہیں گیان واپی کیس پر اپنی عرضی واپس لے لینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دودھ کے جلے ہیں، چھاچھ بھی پھونک کر پیتے ہیں۔
متھرا کا ذکر کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ وہاں 55 سال پہلے مسلمانوں اور ہندوؤں نے بیٹھ کر معاہدہ کیا تھا۔ یہ معاہدہ عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔ مسلمانوں نے زمین دی۔ اس کے بعد وہاں ایک عالیشان مندر بنایا گیا۔ مسلمانوں نے ایک متنازع جگہ کو ہٹا دیا جہاں سیڑھیاں تھیں، لیکن آج لوگ عدالت گئے ہیں، یہ کون لوگ ہیں؟
اویسی نے کہا کہ آر ایس ایس سربراہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے آباؤ اجداد ہندو تھے، انہوں نے کہا کہ کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ موہن بھاگوت کے آباؤ اجداد کو زبردستی بدھ مت سے ہندو بنایا گیا تھا۔ وہ کون سے الفاظ استعمال کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ موہن بھاگوت پی ایم مودی کو جھوٹا ثابت کر رہے ہیں۔ جب پی ایم مودی سعودی عرب گئے تھے تو انہوں نے کیرالہ میں ایک مسجد کا ڈھانچہ بنوا کر سعودی عرب کے بادشاہ کو دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سبھی سے مل کر بنا ہے۔
انٹرویو کے دوران اویسی سے پوچھا گیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم آکر یہ کہے، جس پر موہن بھاگوت نے کہا۔ جب وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں سی اے اے کے بارے میں بات کی تو آپ نے کیا قبول کیا؟ آپ رام مندر سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کو ماننے کو تیار نہیں تھے۔ آپ کہتے تھے کہ مسجد ہے، مسجد تھی اور قیامت تک مسجد رہے گی۔ اس سوال پر اویسی نے متضاد جواب دینا شروع کر دیا۔









